مظفر حنفی کے ذریعے کیے گئے تراجم
اندھروا
سچدانند راوت رائے
گلے میں ہڈیوں کا ہار پہنا، دانتوں میں تنکا دبایا، زبان ہونے کے باوجود توتلا بن کر پہلی پدھان نے دربدر جھولی پھیلائی۔ گھٹاٹوپ اندھیرے میں اپنے لمبے لمبے گٹھیلے بازوؤں کو اوپر اٹھاکر، گاؤں کے سرے پر واقع دکان کے پاس بیٹھ کر گاگا کر، سب سے اپنے دل کی
گوشت کا نوحہ
کالندی چرن پانیگراہی
جالی اور ڈورا بچپن کے ساتھی ہیں۔ ایک دوسرے سے پل بھر کے لیے جدا رہنا وہ آسانی سے قبول نہیں کرتے۔ جالی ایک بار بیمار ہو گئی، ڈورا رات بھر اس کی تیمارداری کرتا رہا۔ ساری ڈانٹ پھٹکار ناکام ہو گئی، آخر اس جگہ اس کے کھانے پینے کا بندوبست کرنا پڑا۔ ایک بار
گوپی ساہو کی دکان
اننت پرساد پانڈا
یگ یگ سے سڑک کے پاس بہت پرانا اور گھنا برگد کاوہ پیڑ اس طرح کھڑا ہوا ہے۔۔۔ پیڑ کی جڑیں نہ جانے کب سے غار منا میں سما چکی ہیں لیکن اسے زندہ رکھ چھوڑا ہے اس کی چار چھ موٹی موٹی لٹوں نے جو مٹی میں داخل ہوکر جڑ کا کام کر لیتی ہیں۔ پیڑ اپنے جنم سے اب