Muztar Haidri's Photo'

مضطر حیدری

1920 - 1975 | کولکاتا, ہندوستان

دلکش اور دلآویز ترنم کے ساتھ اپنی مخصوص شاعری کے لئے مشہور

دلکش اور دلآویز ترنم کے ساتھ اپنی مخصوص شاعری کے لئے مشہور

خلوص ہو تو کہیں بندگی کی قید نہیں

صنم کدے میں طواف حرم بھی ممکن ہے

کوئی بھی شکل مکمل کتاب بن نہ سکی

ہر ایک چہرہ یہاں اقتباس جیسا ہے

محفل میں ان کی کھل گیا دل کا معاملہ

پلکوں پہ اشک رہ گئے پینے کے بعد بھی

کل رات مرے دل نے پھر چپکے سے پوچھا ہے

مضطرؔ تری آہوں میں آئے گا اثر کب تک

ہائے بے چہرگی یہ انساں کی

ہائے یہ آدمی نما کیا ہے

بہت قریب ہے مضطرؔ وہ زندگی کا نظام

نظر نہ آئے گا جب کوئی بسمل و قاتل

اک ٹھیس بھی ہلکی سی پتھر سے گراں تر ہے

نازک ہے یہ دل اتنا شیشے کا ہو گھر جیسے

سنگریزوں کو حقارت سے نہ ٹھکرائیے آپ

خاک کے ذرے بھی سینے میں شرر رکھتے ہیں

جھکی جھکی جو ہے کڑوی کسیلی نیم کی شاخ

اسی پہ شہد کا چھتہ دکھائی دیتا ہے