Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Naeem Anees's Photo'

نعیم انیس

1968 | کولکاتا, انڈیا

معروف محقق، نقاد، شاعر، مترجم اور معلم، اردو ادب اور تحقیق کے میدان میں اپنی گراں قدر تصنیفی و تنقیدی خدمات کے لیے معروف

معروف محقق، نقاد، شاعر، مترجم اور معلم، اردو ادب اور تحقیق کے میدان میں اپنی گراں قدر تصنیفی و تنقیدی خدمات کے لیے معروف

نعیم انیس کا تعارف

اصلی نام : نعیم احمد

پیدائش : 19 Sep 1968 | کولکاتا, مغربی بنگال

نعیم انیس کا اصل نام نعیم احمد ہے۔ ان کی پیدائش  19 ستمبر 1968ء کو کولکاتا میں انیس احمد عزیزی کے دولت کد ے پر ہوئی۔ وہ  اپنے قلمی نام نعیم انیس سے ادبی، سماجی اور تعلیمی سطح پر بے حد مقبول و معروف ہیں۔ نعیم انیس ایم اے اردو میں گولڈ مڈلسٹ ہیں اور پی ایچ ڈی کی سند سے بھی سرفراز کیے گئے ہیں۔

 وہ کلکتہ گرلس کالج میں درس و تدریس کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ فی الوقت وہ کلکتہ گرلس کالج کے شعبۂ اردو میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی ادبی سرگرمیاں بھی اپنی جگہ مسلم ہیں۔ وہ ”بزمِ ادب“ کولکاتا اور ”دی مسلم انسٹی ٹیوٹ“ کولکاتا کے اعزازی جنرل سکریٹری بھی ہیں۔ وہ ”بزمِ افضل“ کے بھی اعزازی جنرل سکریٹری تھے۔ نعیم انیس مغربی بنگال اردو اکاڈمی کی پبلی کیشن کمیٹی کے سابق چیرمین اور مغربی بنگال اردو اکاڈمی کی گورننگ باڈی کے سابق رکن بھی رہ چکے ہیں۔ وہ سہ ماہی رسالہ ”فکر و تحریر “ کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔

نعیم انیس کی تصنیفات اور تالیفات کی فہرست اس طرح ہے۔ (1)نیاز احمد خاں: ایک مطالعہ، (2)اظہار (ادبی مضامین)، (3)وہ لمحے یاد آتے ہیں (نثری نظمیں)، (4)یادوں کے جگنو (رپورتاژ)، (5) آزادی کے بعد مغربی بنگال کا اردو ادب، (6)کلامِ اعزاز افضل، (7)اعزاز افضل : فن اور فن کار، (8)بہہ رہی ہے فرات آنکھوں سے (اعزاز افضل کا رثائی کلام )، (9)مرشد آباد میں ایک دن  (رپورتاژ)، (10)غزلیاتِ بیدل مرشد آبادی، (11)اوراقِ پارینہ، (12)پریم چند: حیات و خدمات، (13)اردو کی معروف خواتین افسانہ نگار اور ان کی خدمات، (14)میزانِ افکار (ادبی و تحقیقی مضامین)، (15) خواجہ جاوید اختر: خواب اور خواب گر، (16)علامہ اقبال: حیات و خدمات، (17)آزادی کے بعد مغربی بنگال میں اردو نظم، (18)اکیسویں صدی میں اردو ناول، (19)راجندر سنگھ بیدی: عہد ساز فن کار، (20)انتظار حسین : حیات و فن، (22)اکیسویں صدی میں اردو افسانہ، (23)تفہیم تصوف: مخطوطات اور مشترکہ ثقافت کی روشنی میں، (24)بیگم رقیہ : ایک عبقری شخصیت، (25) اکیسویں صدی میں اردو ڈراما، (26) ترنم ریاض کی ادبی خدمات، (27) اکیسویں صدی میں اردو سفرنامے اور رپورتاژ، (28) اردو ادب اور ہندی فلمیں، (29) اردو میں تانیثی ادب

نعیم انیس کو ان کی تصنیفات اور ادبی خدمات پر بہت سارے ایوارڈ بھی ملے جن میں چند پیشِ خدمت ہیں۔ کتاب’’اظہار‘‘ پر  اتر پردیش اردو اکاڈمی  اور مغربی بنگال اردو اکاڈمی کا انعام، کتاب ’’غزلیاتِ بیدل مرشد آبادی‘‘ پر اتر پردیش اردو اکاڈمی کا انعام، کتاب ’’اکیسویں صدی میں اردو افسانہ ‘‘ پر اتر پردیش اردو اکاڈمی کا ایوارڈ، اس کے علاوہ ’’مژگاں ایوارڈ برائے ’’نوجوان ادیب‘‘، ’’مخدوم اشرف ایوارڈ ‘‘ برائے خدماتِ اردو، ’’وِزڈم آف کولکاتا ایوارڈ‘‘ برائے خدماتِ اردو ادب و تدریس، ’’ساحرلدھیانوی ایوارڈ‘‘ برائے ادبی خدمات، ’’انمول رتن ایوارڈ‘‘ (حیدر آباد) برائے ادبی خدمات، ’’ڈاکٹر منظر کاظمی انٹرنیشنل ایوارڈ‘‘ برائے فکشن تنقید، ’’ذاکر حسین ایوارڈ ‘‘ برائے فروغِ اردو زبان و ادب و درس و تدریس، ”میزان ایوارڈ‘‘ برائے فروغِ اردو، رانی گنج وغیرہ وغیرہ۔

نعیم انیس کے مضامین کا مجموعہ ”اظہار“ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے بلند پایہ نقاد، شاعر، ادیب، ڈراما نگار اور سابق صدر شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی شمیم حنفی اس طرح رقم طراز ہیں۔
”نعیم انیس صاحب ادب سے صرف پیشہ ورانہ دل چسپی نہیں رکھتے۔ ادب ان کا پہلا عشق ہے۔ اس کتاب میں ان کی مختلف تحریریں یکجا کردی گئی ہیں۔ ان میں موضوعات کا تنوع حیرت انگیز ہے۔ نئے پرانے، معروف اور غیرمعروف اشخاص و مسائل پر انھوں نے یکساں انہماک کے ساتھ قلم اٹھایا ہے اور ایسی باتیں بھی کہی ہیں جو ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ ان مضامین کا ایک نمایاں وصف ان کی سادہ کاری اور تازگی ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس کتاب کے بعد بھی وہ اپنا علمی سفر جاری رکھیں گے اور نئی منزلوں کی جستجو سے بے نیا زنہ ہوں گے۔“


موضوعات

Recitation

بولیے