Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Nafees Lucknowi's Photo'

نفیس لکھنوی

- 1901 | لکھنؤ, انڈیا

میر انیس کے سب سے بڑے فرزند اور مرثیہ گوئی کے معتبر شاعر

میر انیس کے سب سے بڑے فرزند اور مرثیہ گوئی کے معتبر شاعر

نفیس لکھنوی کا تعارف

تخلص : 'نفیس'

اصلی نام : میر خورشید علی

پیدائش :فیض آباد, اتر پردیش

وفات : 03 Mar 1901 | لکھنؤ, اتر پردیش

رشتہ داروں : میر انیس (والد)

نام: میر خورشید علی

تخلص: نفیس
نسبت: میر ببر علی انیس کے سب سے بڑے فرزند

نفیس لکھنوی اردو مرثیہ گوئی کی روایت کے ایک معتبر اور اہم نام ہیں۔ آپ کا اصل نام میر خورشید علی تھا اور تخلص نفیس اختیار کیا۔ آپ اردو کے عظیم مرثیہ گو شاعر میر ببر علی انیس کے سب سے بڑے فرزند تھے، جنہوں نے اپنے والد کے شعری ورثے کو نہ صرف آگے بڑھایا بلکہ اپنے منفرد انداز میں اس صنف میں گراں قدر اضافہ بھی کیا۔

ولادت و وفات

نفیس لکھنوی کی ولادت فیض آباد میں ہوئی۔ ان کی تاریخِ پیدائش کے حوالے سے مختلف اور متضاد بیانات ملتے ہیں، اسی لیے ان کے سالِ ولادت کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنا مشکل ہے۔ تاہم یہ طے ہے کہ ان کی ابتدائی تربیت و پرورش فیض آباد کے علمی و ادبی ماحول میں ہوئی۔
آپ کا انتقال 13 ذیقعد 1318 ہجری بمطابق 3 مارچ 1901 کو یرقان میں مبتلا رہنے کے بعد ہوا۔

شعری سرمایہ اور ادبی خدمات

نفیس لکھنوی نے اپنی شاعری کے ذریعے مرثیہ گوئی کی روایت میں ایک خاص مقام بنایا۔ ان کے کلام میں فن کی نزاکت، جذبات کی شدت اور مرثیے کی روحانی فضا کا بھرپور اظہار ملتا ہے۔ ان کے مراثی کو نہ صرف مجالس میں پڑھا گیا بلکہ بعض اشعار کو بطور سوز بھی شامل کیا گیا، جس سے ان کے کلام کی تاثیر اور مقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

ان کے مرثیوں میں میر انیس کی فکری و فنی جھلک ضرور دکھائی دیتی ہے، مگر نفیس نے اپنے تجربے اور انداز سے اس روایت کو ایک نئی تازگی بھی عطا کی۔ ان کے بعض اشعار آج بھی مرثیہ خوانی کی محافل میں اپنی تاثیر برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

ادبی اہمیت

نفیس لکھنوی کی حیثیت اردو مرثیہ گوئی میں ایک ایسے شاعر کی ہے جس نے خانوادۂ انیس کی روایت کو زندہ رکھا اور اسے اپنی انفرادیت کے ساتھ آگے بڑھایا۔ ان کے کلام کے جواہر آج بھی مرثیہ خوانوں اور ادب کے قارئین کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔

موضوعات

Recitation

بولیے