نارنگ ساقی کا تعارف
نارنگ ساقی کا اصل نام:کرشن لال تھا جب کہ وہ اپنے قلمی نام نارنگ ساقی سے معروف تھے۔ وہ 24 اگست 1936ء کو بمقام سودھی نگر، پنجاب پیدا ہوئے تھے۔ تعلیم بی اے تک اور ذریعۂ معاش تجارت تھی۔ ادب سے والہانہ لگاؤ تھا۔ کنور مہندر سنگھ بیدی سحر سے کافی انسیت تھی۔ ان کی تصنیفات کے نام درج ذیل ہیں۔ (1)ادیبوں کے لطیفے-1992ء، (2)ادیبوں کے لطیفے-1996، (3)ہمارے کنور صاحب1986، (4)انتخابِ کلامِ بیدی-2016، (5)کائناتِ راز-1989ء، (6)کلیاتِ اکبر-1998ء (مکمل چاروں جلد)، (7)کلیاتِ سحر-1992ء، (8)پیغامِ محبت، (9)قلم کاروں کی خوش کلامیاں۔
اردو کے معروادیب سلیم احمد کے مطابق نذیر فتح پوری کی کتاب ”نارنگ ساقی-حیات اور ادب“ ایک ایسی کتاب ہے جو اردو کی تہذیبی، ثقافتی اور ادبی صورتِ حال کا عصری منظر نامہ پیش کرتی ہے۔ یہ کتاب جہاں ایک طرف نارنگ ساقی کی ہمہ رنگ شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے وہیں دوسری طرف اردو سے ان کی بے لوث اور بے پناہ محبت کا ثبوت بھی فراہم کرتی ہے۔ قابلِ مبارک باد ہیں نذیر فتح پوری کہ انھوں نے اردو کے ایک ایسے ادیب اور ادب نواز شخصیت پر کتاب مرتب کی جس نے اردو دوستی کا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔“
نارنگ ساقی کا انتقال 06 جون 2026 میں نئی دہلی میں ہوا۔
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n89298907