Navin C. Chaturvedi's Photo'

نوین سی چترویدی

1968 | ممبئی, ہندوستان

34
Favorite

باعتبار

بھلا دیا ہے جو تو نے تو کچھ ملال نہیں

کئی دنوں سے مجھے بھی ترا خیال نہیں

پیاس کو پیار کرنا تھا کیول

ایک اکھشر بدل نہ پائے ہم

بغیر پوچھے مرے سر میں بھر دیا مذہب

میں روکتا بھی تو کیسے کہ میں تو بچہ تھا

مرا سایہ مرے بس میں نہیں ہے

مگر دنیا پہ دعویٰ کر رہا ہوں

پرسوں میں بازار گیا تھا درپن لینے کی خاطر

کیا بولوں دوکان پہ ہی میں شرم کے مارے گڑ بیٹھا

کس کو فرصت ہے جو حرفوں کی حرارت سمجھائے

بات آسانی تک آئے تو سبھی تک پہنچے

بیٹھے بیٹھے کا سفر صرف ہے خوابوں کا فتور

جسم دروازے تک آئے تو گلی تک پہنچے

اب ہواؤں کے دام کھلنے ہیں

خوشبوؤں کا تو ہو چکا سودا

ہم تو اس کے ذہن کی عریانیوں پر مر مٹے

داد اگرچہ دے رہے ہیں جسم اور پوشاک پر

نئے سفر کا ہر اک موڑ بھی نیا تھا مگر

ہر ایک موڑ پہ کوئی صدائیں دیتا تھا

کچھ بھنور یوں اچٹ پڑے تھے جیوں

خودکشی پر ہو کوئی آمادہ