Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Noor Qureshi's Photo'

نور قریشی

1939 - 2003 | ہاوڑہ, انڈیا

مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے شاعر، دبستانِ غواص کے اہم نمائندہ شعرا میں شمار ہوتے ہیں

مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے شاعر، دبستانِ غواص کے اہم نمائندہ شعرا میں شمار ہوتے ہیں

نور قریشی کا تعارف

تخلص : 'نور'

اصلی نام : نور محمد قریشی

پیدائش : 05 May 1939 | ہاوڑہ, مغربی بنگال

وفات : 19 Nov 2003 | ہاوڑہ, مغربی بنگال

نور قریشی کا اصل نام نور محمد قریشی اور تخلص نور ہے۔ ان کے والد کا نام بھلئی قریشی ہے۔ نور قریشی 05 مئی 1939ء کو شیب پور، ہاؤڑا، مغربی بنگال میں پیدا ہوئے۔ نور قریشی کے بڑے والد برہا کے مشہور استاد تھے۔ ان کے شاگردوں کی تعداد 100 سے زائد تھی۔ انھیں برہا کے شائقین عبدالکریم برہیا کے نام سے جانتے تھے۔ نور قریشی دبستانِ غواص کے معروف شاعر تھے اور انھیں جانشینِ غواص قریشی، عزیز غواصی سے شرفِ تلمذ حاصل تھا۔ ان کی پہلی کتاب ”رازِ کن فکاں“ حمد، نعت اور منقبت کا مجموعہ ہے جو 2002ء میں شائع ہوئی تھی۔ ان کا شعری مجموعہ ”احساس“ ان کے انتقال کے بعد 2008 میں شائع ہوا اور اس کی طباعت کا سارا خرچ  معروف ادب دوست اظہر انصاری نے خود اٹھالیا۔ اظہر انصاری  نور قریشی سے بہت قربت رکھتے تھے۔

نور قریشی کی شاعری سے متعلق ، شاعر، ادیب اور مترجم علقمہ شبلی کی آراء درج ذیل ہے۔
”نور قریشی کی شاعری کا مطالعہ ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ اس میں فضا کی رنگینی کا عکس بھی ہے اور حالات کی سنگینی کی پرچھائیاں بھی۔ مشاہدات و تجربات نے انھیں جو کچھ دیا اور ان کے احساس و فکر کو جس طرح متاثر کیا، اس تاثر کو انھوں نے شاعری کی مہذب زبان میں خلوص و احتیاط کے ساتھ غزلیہ پیکر عطا کیا ہے۔ وہ نور و ظلمت، امید ویاس اور حقیقت و خواب کے ہر منظر کو کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور اپنی نوکِ قلم سے صفحۂ قرطاس پر بکھیر دیتے ہیں۔ ان کی غزلوں میں سنجیدگی، متانت، اور میانہ روی ہے۔ وہ اپنے احساسات کو شگفتہ زبان میں بیان کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ وہ لفظی کرتب بازی سے کام نہیں لیتے۔“
نور قریشی کا انتقال 19 نومبر 2003 کو   شیب پور، ہاؤڑا، مغربی بنگال میں ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے