Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Noor Qureshi's Photo'

نور قریشی

1939 - 2003 | ہاوڑہ, انڈیا

مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے شاعر، دبستانِ غواص کے اہم نمائندہ شعرا میں شمار ہوتے ہیں

مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے شاعر، دبستانِ غواص کے اہم نمائندہ شعرا میں شمار ہوتے ہیں

نور قریشی کے اشعار

859
Favorite

باعتبار

گو آبلے ہیں پاؤں میں پھر بھی اے رہروو

منزل کی جستجو ہے تو جاری رہے سفر

جو کتابوں میں مل نہیں سکتی

دوستو ایسی داستاں ہیں ہم

گاہے گاہے اگر خوشی ملتی

غم کا اتنا اثر نہیں ہوتا

ذرا یہ بھی تو دیکھو ہنسنے والو

کہ میں کتنی بلندی سے گرا ہوں

جب آئے گا گلشن کو لہو دینے کا موسم

دو چار قدم آگے ہی دیوانے ملیں گے

صورت آدمی سے کیا لینا

سیرت آدمی کی بات کریں

سر نیاز جھکانے سے کچھ نہیں ہوتا

خلوص دل نہ ہو شامل تو بندگی کیا ہے

کبھی کبھی جو بڑھا درد دل تو غم کیوں ہو

کبھی کبھی تو مسرت بھی کم نہیں ہوتی

ایک لمحہ بھی نہیں جن کا جفا سے خالی

وہ بھی کس شان سے کہتے ہیں وفادار ہیں ہم

جبین شوق ہر اک در پہ خم نہیں ہوتی

ہر اک زمین زمین حرم نہیں ہوتی

پئے جاتا ہے انساں کا لہو تک

یہ عہد نو بہت پیاسا لگے ہے

وہ مجھے ذرہ سمجھتے ہیں میں ان کو آفتاب

اپنی اپنی وسعت فکر و نظر کی بات ہے

Recitation

بولیے