noImage

نور قریشی

نور قریشی کی اشعار

گو آبلے ہیں پاؤں میں پھر بھی اے رہروو

منزل کی جستجو ہے تو جاری رہے سفر

جو کتابوں میں مل نہیں سکتی

دوستو ایسی داستاں ہیں ہم

گاہے گاہے اگر خوشی ملتی

غم کا اتنا اثر نہیں ہوتا

ذرا یہ بھی تو دیکھو ہنسنے والو

کہ میں کتنی بلندی سے گرا ہوں

پئے جاتا ہے انساں کا لہو تک

یہ عہد نو بہت پیاسا لگے ہے