نور قریشی کے اشعار
گو آبلے ہیں پاؤں میں پھر بھی اے رہروو
منزل کی جستجو ہے تو جاری رہے سفر
ذرا یہ بھی تو دیکھو ہنسنے والو
کہ میں کتنی بلندی سے گرا ہوں
جب آئے گا گلشن کو لہو دینے کا موسم
دو چار قدم آگے ہی دیوانے ملیں گے
صورت آدمی سے کیا لینا
سیرت آدمی کی بات کریں
سر نیاز جھکانے سے کچھ نہیں ہوتا
خلوص دل نہ ہو شامل تو بندگی کیا ہے
کبھی کبھی جو بڑھا درد دل تو غم کیوں ہو
کبھی کبھی تو مسرت بھی کم نہیں ہوتی
ایک لمحہ بھی نہیں جن کا جفا سے خالی
وہ بھی کس شان سے کہتے ہیں وفادار ہیں ہم
جبین شوق ہر اک در پہ خم نہیں ہوتی
ہر اک زمین زمین حرم نہیں ہوتی