ڈاکٹر نصرت مہدی یکم مارچ  کو نگینہ کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئیں. ابتدائی تعلیم نگینہ میں ہی حاصل کی اور گریجویشن میرٹھ یونیورسٹی سے کیا. آپ نے تین زبانوں اردو، ہندی اور انگریزی میں ایم اے کیا ہے.  ایشکروفٹ یونیورسٹی، لندن (یوکے) نے آپ کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے بھی  نوازا ہے.  آپ فی الوقت ڈائریکٹر، مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی محکمۂ ثقافت کے عہدے پر فائز ہیں اور بھوپال میں مقیم ہیں. 

اردو شعریات کی طویل رہ گزر پر خواتین کی نمائندگی یوں تو ہر دور میں رہی ہے لیکن بیسویں صدی کے نصف آخر میں ان شاعرات کی ایک طویل فہرست ہمارے سامنے ہے جنھوں نے  اپنی شاعری میں نہ صرف یہ کہ نسائی جذبات واحساسات کو رقم کیا بلکہ اپنے مخصوص لہجے کو بھی اس کے تمام شوخ رنگوں کے ساتھ برتا ۔ اس کا اثر بعد میں آنے والی شاعرات نے بھی قبول کیا اور پوری خود اعتمادی کے ساتھ اپنے افکار کو اپنے انداز میں پیش کیا۔ اس حوالے سے دیکھیں تو  ڈاکٹر نصرت مہدی نے اکیسویں صدی کی ان دو دہائیوں میں اپنا جو بھی شعری سرمایہ سمیٹا ہے اس  میں وہ تمام خصوصیات موجود ہیں جن کا ذکر ابھی میں نے کیا ہے ۔ ان کا جس ادبی و علمی معاشرے سے تعلق ہے وہ   اردو زبان وادب کے حوالے سے ہمیشہ عالم میں انتخاب رہا ہے ۔

 ڈاکٹر نصرت مہدی  ایک طویل عرصے تک مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی سکریٹری رہیں ۔ انھوں اپنی انتظامی صلاحیتوں سے اکیڈمی کے وقار میں اضافہ کیا ۔ کئی سال تک اردو ہفتہ منایا جس کے ذریعے فنون لطیفہ کے تعلق سے وہ بہت سے کام کیے جو زبان و ادب کو مقبول بنانے میں معاون ثابت ہوتے ۔ افسانے کا افسانہ ، ڈرامہ ، بیت بازی، تلاشِ جوہر اور سب سے بڑھ کر جشن اردو جیسا عالیشان پروگرام ایسے پروگرام تھے جنہو ں نے عوام و خواص کو اردو زبان و تہذیب کی طرف راغب کیا اور مدھیہ پردیش اردو اکادمی کا وقار پورے ہندوستان کی اردو اکادمیوں میں بلند کیا.
سکریٹری مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے علاوہ آپ کئی اہم عہدوں پر فائز رہیں جن میں سابق ڈپٹی ڈائریکٹر، علامہ اقبال ادبی مرکز، محکمہ ثقافت، مدھیہ پردیش، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی کے ایگزیکٹو بورڈ کی سابق میمبر
 نیشنل بک ٹرسٹ آف انڈیا کی مجلس مشاورت کی سابق میمبر، سی سی آر ٹی وزارت ثقافت، دہلی کے اردو پینل کی میمبر، سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر، مدھیہ پردیش وقف بورڈ، سابق ایگزیکٹو آفیسر، اسٹیٹ حج کمیٹی جیسے اہم عہدے شامل ہیں. 

 جہاں تک ان کی شاعری کا تعلق ہے تو ڈاکٹر مہدی نے بھی معاشرے کے تلخ و ترش اور انتشار و احتجاج کو جس خوبی سے شعری پیکر میں ڈھالا ہے وہ یقیناً قابل تعریف ہے ۔ اس پر مستزاد یہ کہ ان کے سحر انگیز ترنم نے تلخ باتوں کو بھی شیرینی کا ایک سبک دریا بنا دیا۔ ان کے شعری سروکار میں جو چیزسامع یا قاری کو میں سمجھتا ہوں متاثر کرتی ہے وہ مضمون آفرینی تو ہے ہی ساتھ ہی الفاظ کی رنگا رنگی بھی ہے۔
شاعری کےعلاوہ آپ کہانیاں، آرٹیکلز ، ڈراما اسکرپٹ وغیرہ بھی لکھتی ہیں. بین الاقوامی سیمناروں، اردو کنونشن، ورکشاپ، مشاعروں میں فعال اور  مسلسل شمولیت رہی ہے. امریکہ، انگلینڈ  دبئی، سعودی عرب،، پاکستان، بحرین، قطر، کویت، مسقط وغیرہ مختلف ممالک کے ادبی اسفار کرچکی ہیں. 
آپ کی شعری تصانیف درج ذیل ہیں. 
1.سایہ سایہ دھوپ ،2. آبلہ پا، 3. میں بھی تو ہوں (دیوناگری)، 4. گھر آنے کو ہے، 5- حصار ذات سے پرے، 6- فرہاد نہیں ہونے کے (دیو ناگری )

اور نثری تصانیف درج ذیل ہیں. 

1. 1857 کی جنگ آزادی 
2. انتخاب سخن (ایم اے اردو کے نصاب میں شامل). 

آپ کو ملکی و بین الاقوامی سطح پر کئی اعزازات و انعامات سے نوازا جا چکا ہے جن میں بین الاقوامی سطح پر  اردو مرکز انٹرنیشنل لاس اینجلس، کیلیفورنیا امریکہ کے ذریعے "حسن کارکردگی انٹرنیشنل ایوارڈ"، انٹرنیشنل سوشل ڈیولپمینٹ فاؤنڈیشن کے ذریعے 10 فروری 2018 کو "موسٹ پرومیسنگ پؤیٹیس اینڈ رائٹر ان انڈیا ایوارڈ"،  انٹرنیشنل چیمبر آف میڈیا اینڈ اینٹرٹینمینٹ انڈسٹری اینڈ ایشین اکیڈمی آف آرٹس کے ذریعے اعزاز شامل ہیں جبکہ قومی سطح پر   شِونا ادبی اعزاز 2018 ، شِونا پرکاشن کے ذریعے، "آنندا اعزاز 2017 ، خوشبو ایجوکیشن اینڈ کلچرل سوسائٹی، بھوپال کے ذریعے، سُمِرن ساہتیک سنستھا ،کانپور کے ذریعے" سُمِرن گیت اعزاز 2017"،  ابھنو کلا پریشد، بھوپال کے ذریعے "ابھنو شبد شلپی 2017" اعزاز، لوک کلا منڈل، اُدے پورہ کے ذریعے "سِرجن کلا پریرک اعزاز 2016"،  اقبال میموریل ایجوکیشن سوسائٹی، نگینہ، اتر پردیش کے ذریعے "اختر الایمان ایوارڈ 2016"، مدر ٹریسا گولڈ میڈل 2015،  بیسٹ سٹیزن آف انڈیا گولڈ میڈل، 2015،  امراوتی مہا نگرپالیکا، مہاراشٹر کے ذریعے "پروین شاکر 2014" اعزاز،مظہر سعید خاں ایوارڈ 2014، امر شہید اشفاق اللہ ایوارڈ، 2010، بھوپال ،بزم نشور، کانپور کے ذریعے "نشور ایوارڈ" 2008، خاتونِ اودھ ایوارڈ 2006، لکھنؤ وغیرہ قابل ذکر ہیں.

موضوعات