عبید حارث کے اشعار

اپنا سچ اس کو سنانے کے لیے

ہم کو قصوں کا حوالہ چاہیئے

تہہ بہ تہہ کھلتی ہی رہتی ہے سدا

میرؔ کے دیوان سی ہے زندگی

وقت بدلا سوچ بدلی بات بدلی

ہم سے بچے کہہ رہے ہیں ہم نئے ہیں

نیا چار دن میں پرانا ہوا

یہی سب ہوا تو نیا کیا ہوا

ہم کتابوں میں جسے پاتے ہیں حارثؔ

آدمی ویسا کوئی ملتا کہاں ہے

خالی دیوار بری لگتی ہے

میری تصویر ہی رہنے دیتے

صدائیں ڈوبتی ہیں جب

خموشی مسکراتی ہے

کھولو نہ کوئی عیب کسی کا بھی یہاں پر

آسیب کو مل جائے گا دروازہ کھلا سا

انہیں آگے نکل جانے دو حارثؔ

بلائیں کب سے پیچھا کر رہی ہیں

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے