Pallav Mishra's Photo'

پلو مشرا

1998 | دلی, ہندوستان

205
Favorite

باعتبار

شہر جاں میں وباؤں کا اک دور تھا

میں ادائے تنفس میں کمزور تھا

وہ نشہ ہے کے زباں عقل سے کرتی ہے فریب

تو مری بات کے مفہوم پہ جاتا ہے کہاں

یہ طے ہوا تھا کہ خوب روئیں گے جب ملیں گے

اب اس کے شانے پہ سر ہے تو ہنستے جا رہے ہیں

ترے لبوں میں مرے یار ذائقہ نہیں ہے

ہزار بوسے ہیں ان پر پہ اک دعا نہیں ہے

تمام ہوش ضبط علم مصلحت کے بعد بھی

پھر اک خطا میں کر گیا تھا معذرت کے بعد بھی

تمام فرق محبت میں ایک بات کے ہیں

وہ اپنی ذات کا نئیں ہے ہم اس کی ذات کے ہیں

میں ایک خانہ بدوش ہوں جس کا گھر ہے دنیا

سو اپنے کاندھے پہ لے کے یہ گھر بھٹک رہا ہوں

میں اپنی موت سے خلوت میں ملنا چاہتا ہوں

سو میری ناؤ میں بس میں ہوں ناخدا نہیں ہے

میں تجھ سے ملنے سمے سے پہلے پہنچ گیا تھا

سو تیرے گھر کے قریب آ کر بھٹک رہا ہوں

یہ جسم تنگ ہے سینے میں بھی لہو کم ہے

دل اب وہ پھول ہے جس میں کہ رنگ و بو کم ہے

آنسوؤں میں مرے کاندھے کو ڈبونے والے

پوچھ تو لے کہ مرے جسم کا صحرا ہے کہاں

ہمارا کام تو موسم کا دھیان کرنا ہے

اور اس کے بعد کے سب کام شش جہات کے ہیں

مکین دل کو خانما‌ں خراب سے عشق تھا

قیام ڈھونڈھتا رہا تمہاری چھت کے بعد بھی