Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Prof. Nazeer Ahmad's Photo'

پروفیسر نذیر احمد

1915 - 2008 | علی گڑہ, انڈیا

ممتاز محقق، ماہرِ لسانیات، غالب شناس اور کلاسیکی متون کے معتبر شارح

ممتاز محقق، ماہرِ لسانیات، غالب شناس اور کلاسیکی متون کے معتبر شارح

پروفیسر نذیر احمد کا تعارف

اصلی نام : نذیر احمد

پیدائش : 03 Jan 1915 | گونڈہ, اتر پردیش

وفات : 19 Oct 2008 | علی گڑہ, اتر پردیش

شناخت: ممتاز محقق، ماہرِ غالبیات، فارسی کے جید عالم، ماہرِ لسانیات اور کلاسیکی متون کے معتبر شارح

پروفیسر نذیر احمد 3 جنوری 1915ء کو اتر پردیش کے ضلع گونڈا کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم لکھنؤ یونیورسٹی سے حاصل کی اور 1940ء میں فارسی زبان و ادب میں ایم اے کیا۔ بعد ازاں 1945ء میں انہوں نے فارسی کے معروف شاعر ظہوری کی حیات و خدمات پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ یہ مقالہ انہوں نے نامور محقق مسعود حسن رضوی ادیب کی نگرانی میں مکمل کیا۔ 1950ء میں ’’عہدِ عادل شاہی کے فارسی گو شعرا‘‘ پر مقالہ لکھ کر ڈی لِٹ کی ڈگری حاصل کی، جبکہ 1956ء میں ابراہیم عادل شاہ ثانی کی تصنیف ’’نورس‘‘ کی تحقیق و تدوین پر اردو میں بھی ڈی لِٹ سے نوازے گئے۔

1955ء میں حکومتِ ہند کے وظیفے پر ایران گئے، جہاں تہران یونیورسٹی سے پہلوی اور جدید فارسی زبان میں ڈپلومہ حاصل کیا اور ایران کے ممتاز اساتذہ سے کسبِ فیض کیا۔ واپسی کے بعد انہوں نے لکھنؤ یونیورسٹی میں شعبۂ فارسی سے وابستگی اختیار کی۔ 1957ء میں رشید احمد صدیقی کی دعوت پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی آئے، جہاں حکومت ہند کے ایک علمی منصوبے کے تحت اردو زبان و ادب کی تاریخ کے علمی منصوبے سے وابستہ رہے۔ بعد ازاں شعبۂ فارسی میں ریڈر اور پھر پروفیسر مقرر ہوئے۔ وہ سترہ برس تک شعبۂ فارسی کے صدر رہے اور جامعہ کی فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔

پروفیسر نذیر احمد کو فارسی و اردو تحقیق میں غیر معمولی مقام حاصل تھا۔ انہوں نے ایک ہزار سے زائد تحقیقی مقالات تحریر کیے، جو ہندوستان، پاکستان، ایران، افغانستان، امریکہ اور دیگر ممالک کے معتبر علمی جرائد میں شائع ہوئے۔ ان کی تحقیق کا دائرہ فارسی و اردو ادب، لسانیات، تاریخ، تہذیب، موسیقی، خطاطی اور غالبیات تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کے تحقیقی مجموعوں میں ’’تحقیقی مقالات‘‘، ’’تاریخی و ادبی مطالعے‘‘، ’’غالب آشفتہ‘‘، ’’غالب پر چند مقالات‘‘ اور ’’غالب پر چند تحقیقی مطالعے‘‘ خاص طور پر اہم ہیں۔

غالبیات اور دکنیات کے میدان میں بھی ان کی خدمات نمایاں ہیں۔ انہوں نے ابراہیم عادل شاہ ثانی کی شہرۂ آفاق تصنیف ’’نورس‘‘ کو متعدد مخطوطات کی مدد سے مرتب و مدون کیا، جسے دکنی اردو کی ایک اہم دستاویز سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح ’’دیوانِ مہندر‘‘، ’’مکاتبِ سنائی‘‘، ’’دیوانِ حمید لویکی‘‘ اور ’’نقدِ قاطعِ برہان‘‘ جیسی اہم کتابوں کی تدوین و تحقیق بھی ان کے علمی کارناموں میں شامل ہے۔ قدیم فارسی فرہنگوں پر ان کا کام بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے ’’فرہنگِ قواس‘‘، ’’دستور الافاضل‘‘، ’’فرہنگِ جہان پویا‘‘ اور ’’لسان الشعراء‘‘ جیسے نادر متون کو تحقیق کے ساتھ شائع کیا۔

پروفیسر نذیر احمد ایک بلند پایہ مدیر بھی تھے۔ وہ معروف علمی و تحقیقی مجلے ’’فکر و نظر‘‘ کے نائب مدیر رہے اور ان کی محنت سے یہ رسالہ اردو دنیا کے ممتاز تحقیقی جرائد میں شمار ہونے لگا۔ اس کے علاوہ وہ رسالہ ’’غالب‘‘ اور معروف علمی جریدے ’’معارف‘‘ کی ادارت سے بھی وابستہ رہے۔ وہ غالب انسٹی ٹیوٹ کے تاسیسی رکن اور تاحیات ٹرسٹی بھی رہے۔

انہوں نے متعدد علمی سفر کیے اور پاکستان، ایران، افغانستان، سعودی عرب، کویت، عراق، روس، انگلینڈ اور امریکہ کی بین الاقوامی کانفرنسوں اور علمی اجتماعات میں اپنے مقالات پیش کیے۔ ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ ہند نے انہیں 1987ء میں ’’پدم شری‘‘ سے نوازا۔ 1976ء میں ’’غالب انعام‘‘ ملا، جبکہ تہران یونیورسٹی نے انہیں اعزازی پروفیسرشپ عطا کی۔ 2005ء میں خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری کے اعلیٰ ترین اعزاز سے بھی سرفراز کیے گئے۔

پروفیسر نذیر احمد اپنی عمیق تحقیق، غیر معمولی حافظے، علمی دیانت اور دقتِ نظر کے لیے مشہور تھے۔ وہ جس موضوع پر قلم اٹھاتے اسے انتہائی باریک بینی اور مستند حوالوں کے ساتھ مکمل کرتے تھے۔ اردو و فارسی تحقیق میں ان کی حیثیت ایک مستند اور ناقابلِ فراموش مرجع کی ہے۔

وفات: پروفیسر نذیر احمد کا انتقال 19 اکتوبر 2008ء کو علی گڑھ میں ہوا۔

Recitation

بولیے