noImage

قربان علی سالک بیگ

1824 - 1880 | دلی, ہندوستان

تنگ دستی اگر نہ ہو سالکؔ

تندرستی ہزار نعمت ہے

سالکؔ چکھاؤں ان کو مزا جور کا ابھی

ڈرتا ہوں کچھ برا نہ کہیں سن کے دس مجھے

اب تک بھی میرے ہوش ٹھکانے نہیں ہوئے

سالکؔ کا حال رات کو ایسا سنا کہ بس

کیا سیر ہو بتا دے کوئی بت کدے کی راہ

جاتا ہوں راہ کعبے کی میں پوچھتا ہوا

صیاد اور قید قفس سے کرے رہا

جھوٹی خبر کسی کی اڑائی ہوئی سی ہے

بچ گیا تیر نگاہ یار سے

واقعی آئینہ ہے فولاد کا