Rasheed lakhnavi's Photo'

رشید لکھنوی

1847 - 1918 | لکھنؤ, ہندوستان

مرثیہ ، غزل اور رباعی کے ممتاز شاعر - میر انیس کے نواسے

مرثیہ ، غزل اور رباعی کے ممتاز شاعر - میر انیس کے نواسے

148
Favorite

باعتبار

زندگی کہتے ہیں کس کو موت کس کا نام ہے

مہربانی آپ کی نا مہربانی آپ کی

what is labeled living, how is death defined

Finding your favour, when you are unkind

what is labeled living, how is death defined

Finding your favour, when you are unkind

ہنس ہنس کے کہہ رہا ہے جلانا ثواب ہے

ظالم یہ میرا دل ہے چراغ حرم نہیں

ہماری زندگی و موت کی ہو تم رونق

چراغ بزم بھی ہو اور چراغ فن بھی ہو

تم نے احسان کیا ہے کہ نمک چھڑکا ہے

اب مجھے زخم جگر اور مزا دیتے ہیں

ہوا ہے سخت مشکل دفن ہونا تیرے وحشی کا

جہاں پر قبر کھودی جاتی ہے پتھر نکلتے ہیں

اپنی وحشت سے ہے شکوہ دوسرے سے کیا گلہ

ہم سے جب بیٹھا نہ جائے کوئے جاناں کیا کرے

گئے تھے حضرت زاہد تو زرد تھا چہرہ

شراب خانے سے نکلے تو سرخ رو نکلے

انتظار آپ کا ایسا ہے کہ دم کہتا ہے

نگہ شوق ہوں آنکھوں سے نکل جاؤں گا

دونوں آنکھیں دل جگر ہیں عشق ہونے میں شریک

یہ تو سب اچھے رہیں گے مجھ پر الزام آئے گا

بتوں کے دل میں ہماری کچھ اب ہوئی ہے جگہ

خدا نے رحم کیا ورنہ مر گئے ہوتے

نہیں ہے جس میں تیرا عشق وہ دل ہے تباہی میں

وہ کشتی ڈوب جائے گی نہ جس میں نا خدا ہوگا

سئے جاتے ہیں کفن آپ کے دیوانوں کے

تار دامن کے ہیں ٹکڑے ہیں گریبانوں کے

سبھوں کی آ گئی پیری جو تم جوان ہوئے

زمیں کا دل ہوا مٹی خم آسمان ہوئے

دیکھیے لازم و ملزوم اسے کہتے ہیں

دل ہے داغوں کے لیے داغ مرے دل کے لیے

راس آئے تم کو ملک عشق کی آب و ہوا

عاشقو ہر وقت شغل آہ و زاری چاہیے

وہ گیسو بڑھتے جاتے ہیں بلائیں ہوتی ہیں نازل

قدم تک آ گئے جب حشر عالم میں بپا ہوگا

کبھی مدفون ہوئے تھے جس جگہ پر کشتہ ابرو

ابھی تک اس زمیں سے سیکڑوں خنجر نکلتے ہیں

سزا ہر ایک کو دینے لگی حیا ان کی

کہ چاک ہو گئی لپٹی جہاں قبا ان کی

قید کی مدت بڑھی چھٹنے کی جب تدبیر کی

روز بدلی جاتی ہیں کڑیاں مری زنجیر کی

اے گل اندام یہ ہے فصل جوانی کا عروج

حسن کا رنگ ٹپکنے کو ہے رخساروں سے

معشوق کون سا ہے نہ ہو دل میں جس کی یاد

اس مختصر سے باغ میں کس گل کی بو نہیں

خدا جانے یہ گردش کا طریقہ کب نکالا ہے

جسے کہتے ہیں گردوں اک مرے پاؤں کا چھالا ہے

ہمیشہ بے دلی کی کیجیے کیوں کر نہ دل داری

نہ ہونا پاس دل کا ہے نشانی ایک دلبر کی

دل ہے شوق وصل میں مضطر نظر مشتاق دید

جو ہے مشغول اپنی اپنی سعئ لا حاصل میں ہے