Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Reshma Zaidi's Photo'

ریشما زیدی

1978 | دلی, انڈیا

ریشما زیدی کے اشعار

مجھ سے قفس کا دروازہ کیا ٹوٹے گا

پاؤں پڑی زنجیر میں کھوئی رہتی ہوں

پہلے تو تصویر بناتی ہوں تیری

پھر تیری تصویر میں کھوئی رہتی ہوں

اے کوزہ گر دے شکل مجھے اک چراغ کی

جس سے کسی دیار کو روشن میں کر سکوں

مری ہتھیلی پہ جو ہجر کی لکیریں ہیں

ترے وصال سے ہر وقت روکتی ہیں مجھے

چلو خزاؤں میں ذکر بہار کرتے ہیں

کہ بے قرار طبیعت کو کچھ قرار آئے

جسم تھک ہار کے سو جاتا ہے ہر شب لیکن

ذہن کے واسطے بستر نہیں ہوتا کوئی

Recitation

بولیے