Riyaz Khairabadi's Photo'

ریاضؔ خیرآبادی

1853 - 1934 | خیراباد, ہندوستان

خمریات کے لئے مشہور جب کہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے شراب کو کبھی ہاتھ نہیں لگایا

خمریات کے لئے مشہور جب کہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے شراب کو کبھی ہاتھ نہیں لگایا

تخلص : 'ریاض'

اصلی نام : سید ریاض احمد خیرآبادی

وفات : 30 Jul 1934, خیراباد, ہندوستان

Relatives : امیر مینائی (استاد)

LCCN :n85018221

جام ہے توبہ شکن توبہ مری جام شکن

سامنے ڈھیر ہیں ٹوٹے ہوئے پیمانوں کے

نام ریاض احمد تخلص ریاض۔ ’’لسان الملک‘‘ خطاب۔ ۱۸۵۳ء میں خیرآباد ضلع سیتا پور(اودھ) میں پیدا ہوئے۔ ریاض نے فارسی اپنے والد سے پڑھی۔ ابتدا ئے عمر سے ہی انھیں شاعری کا شوق تھا۔ریاض نے پہلے مظفر علی اسیر کی شاگردی اختیار کی، بعد میں امیر مینائی سے اصلاح لی۔ ۱۸۷۲ء میں خیرآباد سے ’’ریاض الاخبار‘‘ جاری کیا۔۱۸۷۹ء میں خیرآباد ہی سے ایک شعروسخن کا ماہ نامہ ’گلدستۂ ریاض‘ جاری کیا جس کا مقصد شعرا کے بہترین اشعار کی اشاعت تھی۔۱۸۸۳ء میں گورکھپور سے ’فتنہ‘ اور ’عطرفتنہ‘ جاری کیا جس میں ادبی لطائف اور ذوق سخن کے لیے کافی مواد ہوتا تھا۔ راجا صاحب محمود آباد کے اصرار سے مجبور ہو کر مع’ریاض الاخبار‘ کے لکھنؤ چلے آئے۔ریاض نماز پانچوں وقت پڑھتے تھے اور روزے تیسوں رکھتے تھے۔ رنیالڈس کے دوناول ایک انگریزی داں دوست کی مدد سے اپنی زبان اور اپنے انداز سے ’تصویر‘ ’حرم سرا‘ اور ’نظارہ‘ کے نام سے شائع کیا۔ ’’ریاض رضوان‘‘ کے نام سے ریاض کی کلیات شائع ہوگئی ہے۔ ریاض خمریات کے امام کہے جاتے ہیں۔ ۳۰؍ جولائی ۱۹۳۴ء کو خیرآباد میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔