صابر ادیب کی اشعار

میں اکیلا ہوں تو بھی تنہا ہے

ہم بھی کتنے ہیں بے سہارے دیکھ

اس قدر اونچی ہوئی دیوار نفرت ہر طرف

آج ہر انساں سے انساں کی پذیرائی گئی

طلسم ٹوٹ گیا شب کا میں بھی گھر کو چلوں

رکا تھا جس کے لیے وہ بھی گھر گیا کب کا