noImage

سعید اللہ قریشی

کبھی تو منبر و محراب تک بھی آئے گا

یہ قہر قہر کے اسباب تک بھی آئے گا

جب تک کہ تو غزل میں اتاری نہ جائے گی

بستر پہ آج رات گزاری نہ جائے گی

میں ارتقائی مناظر کی اک نشانی ہوں

مجھے سکون سے جینے دو سانس لینے دو

روز کے روز بدلتا ہوں میں خود اپنا جواز

زندگانی میں تجھے حل نہیں ہونے دیتا