Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Saghar Khayyami's Photo'

ساغر خیامی

1936 - 2008 | لکھنؤ, انڈیا

طنز و مزاح کے مقبول شاعر

طنز و مزاح کے مقبول شاعر

ساغر خیامی کے اشعار

3.5K
Favorite

باعتبار

مدت ہوئی ہے بچھڑے ہوئے اپنے آپ سے

دیکھا جو آج تم کو تو ہم یاد آ گئے

آم تیری یہ خوش نصیبی ہے

ورنہ لنگڑوں پہ کون مرتا ہے

جان جانے کو ہے اور رقص میں پروانہ ہے

کتنا رنگین محبت ترا افسانہ ہے

کتنے چہرے لگے ہیں چہروں پر

کیا حقیقت ہے اور سیاست کیا

اس وقت مجھ کو دعوت جام و سبو ملی

جس وقت میں گناہ کے قابل نہیں رہا

کون کہتا ہے بلندی پہ نہیں ہوں ساغرؔ

میری معراج محبت مری رسوائی ہے

چہرے تو جھریوں سے بھرے دل جوان ہیں

دن میں ہیں شیخ رات میں سلمان خان ہیں

پوری دنیا میں حکومت جو زنانی ہوتی

عالمی جنگ جو ہوتی تو زبانی ہوتی

ایک قیدی صبح کو پھانسی لگا کر مر گیا

رات بھر غزلیں سنائیں اس کو تھانے دار نے

ان کے گناہ کیا کہیں کس کس کے سر گئے

تم کو خبر نہیں کئی استاد مر گئے

ہمارے لال کو درکار ہے وہی لڑکی

کہ جس کا باپ پولس میں ہو کم سے کم ڈپٹی

مہندی لگے وہ ہاتھ وہ مینا سی انگلیاں

ہم کو تباہ کر گئیں دلی کی لڑکیاں

آئی صدائے حق کہ یہی بند و بست ہیں

تیرے وطن کے لوگ تو مردہ پرست ہیں

اب وہ زمانہ آئے گا مہوش کمائیں گے

اور مرد گھر پہ بیٹھ کے کھانا پکائیں گے

وہ زباں جو ہے فراقؔ و شادؔ و شنکرؔ کی زباں

اس زباں کی کیوں مسلمانی کئے دیتے ہیں آپ

وہ ہی مقام غالبؔ و اقبالؔ پائیں گے

موٹی دموں کے سامنے جو دم ہلائیں گے

آخر کو میں نے چرب زبانی سے ہار کر

یہ کہہ دیا کہ ٹھیک ہے کتے سے پیار کر

اردو ادب میں جو بھی ہمارا مقام ہے

استاد محترم کے وہ بھیجے کا کام ہے

جانتے ہیں دوستو! جن کی نظر باریک ہے

بس کے دروازہ سے جنت کس قدر نزدیک ہے

آدمی شیطان سے آگے ہے ہر ہر عیب میں

رہنے کو اچھا مکاں ہے اور جنت جیب میں

کہتے تھے میچ دیکھنے والے پکار کے

استاد جا رہے ہیں شب غم گزار کے

اب آپ ہی بتائیں وہ کیسے نبھائے گا

جس کو نصیب دم نہیں وہ کیا ہلائے گا

دیکھے جو قیس حسن تو لیلیٰ کو بھول جائے

ہم کیا ہیں ریش حضرت مولانا جھول جائے

میں نے کہا کہ کتے کے کھانے کا کیک ہے

بولا یہیں پہ کھاؤ گے یا لے کے جاؤ گے

کروٹوں سے بس کی بس میں اور ہلچل ہو گئی

داستان عشق کتنوں کی مکمل ہو گئی

تجربہ مجھ کو ہوا ہے دوستو! اس خواب سے

مستقل چپراسی اچھا ٹمپریری جاب سے

کہنے لگی ہیں جب سے غزل عورتیں جناب

مردوں سے گفتگو کا غزل نام ہو گیا

دیوانگی میں چاک گریباں کئے ہوئے

لیلیٰ ملے گی بال پریشاں کئے ہوئے

جو تھے عروض داں وہ روایت میں بند تھے

بے بہرہ جو گدھے تھے ترقی پسند تھے

میں بھی اپنے گھر میں خوش ہوں وہ بھی اپنے گھر میں شاد

میں بھی ابا بن گیا ان کے بھی بچے ہو گئے

اشارہ ہو تو میں رخ موڑ دوں زمانے کا

بنا دوں تم کو منیجر یتیم خانے کا

کہنے لگی یہ موت کہ کیجے ہمیں معاف

اللہ شاعروں کے ہمیشہ سے ہے خلاف

آنکھ بس میں کاٹ لی بیگم دوانی ہو گئیں

یوں ہی کیا اچھی تھی صورت اس پہ کانی ہو گئیں

بڑھ رہے ہیں ہر طرف عزم و عمل کے کارواں

مرغ انڈے دے رہے ہیں اور اذانیں مرغیاں

استاد کہہ رہے تھے چھرا دل پہ چل گیا

دم پر ہماری پاؤں وہ رکھ کر نکل گیا

کیسے کہہ دوں سر پر تیرے

بیوی ہے آسیب نہیں ہے

شب بھر میں ٹارچ ڈال کے یہ دیکھتا رہا

بجلی کا بلب جلتا ہے یا ہے بجھا ہوا

دیکھ لیجو جانور سر پر بٹھائے جائیں گے

آدمی کی کھال کے جوتے بنائے جائیں گے

مہنگائی کے زمانے میں بچوں کی ریل پیل

ایسا نہ ہو کمر تری مہنگائی توڑ دے

موسم کو دیکھ بھال کے فائل بڑھائے ہیں

دفتر میں لڑکیاں بھی تو سویٹر بنائے ہیں

مایوس نہ ہوں عاشق مل جائے گی معشوقہ

بس اتنی سی زحمت ہے موبائل اٹھانا ہے

ختم ہو گئے جنگل

کرسیاں بنانے میں

گاہک سے میں یہ بولا رقم کھینچ لیجیو

تیمورؔ لنگ کہہ کے اسے بیچ لیجیو

آئی آواز خداوند دیے دیتے ہیں

داخلہ تیرا جے این یو میں کئے دیتے ہیں

کس سے کہئے جھانکیے اپنے گریباں میں ذرا

جس کو کہتے ہیں گریباں وہ تو روشن دان ہے

بس شاعرہ مشاعرے میں کامیاب تھی

اور شاعروں کی دوستو! مٹی خراب تھی

Recitation

بولیے