Saghar Siddiqui's Photo'

ساغر صدیقی

1928 - 1974 | لاہور, پاکستان

تخلص : 'ساغر'

اصلی نام : محمّد اختر

وفات : 19 Jul 1974 | لاہور, پاکستان

جس عہد میں لٹ جائے غریبوں کی کمائی

اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے

نام محمد اختر اور تخلص ساغر تھا۔۱۹۲۸ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے۔گھر میں بہت تنگ دستی تھی اس لیے ان کی تعلیم واجبی سی ہوئی۔۱۵؍بر س کی عمر میں شعر کہنے لگے تھے۔ شروع میں قلمی نام ناصر حجازی تھا لیکن جلد ہی بدل کر ساغر صدیقی ہوگئے۔ترنم بہت اچھا تھا۔لطیف گورداس پوری سے اصلاح لینے لگے۔۱۹۴۷ء میں وہ لاہور آگئے۔ ان کا کلام مختلف پرچوں میں چھپنے لگا۔ انھوں نے متعدد فلموں کے گانے لکھے جو بہت مقبول ہوئے۔۱۸؍جولائی ۱۹۷۴ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔ا ن کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ’زہر آرزو‘، ’غم بہار‘، شب آگہی‘، ’تیشۂ دل‘، ’لوح جنوں‘، ’سبز گنبد‘، ’مقتل گل‘۔ ’’کلیات ساغر ‘‘ بھی چھپ گئی ہے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:229