سلمی صدیقی کے افسانے
منگل سوتر
ایک بڈھا آدمی مردہ خانہ میں داخل ہوا۔ لاش کے چہرے پر سے چادر ہٹائی گئی۔ وہ جھجک کر پیچھے ہٹ گیا۔ پولیس کے آدمی نے پوچھا ’’یہ چھوکری تمہارا ہے سیٹھ؟‘‘ بڈھے آدمی نے ماتھے سے پسینے کے قطرے پونچھے۔ ہونٹ بھینج کر بولا، ’’یہ میری بیٹی کی لاش نہیں
جینے کی راہ
خانگی تشدد کی شکار ایک ایسی عورت کی کہانی، جس کا کہنا ہے کہ مرد جب عورت کو پیار نہیں دے سکتا تو وہ اسے مارنے پیٹنے لگتا ہے۔ سلطانہ ایک مزدور ہے، جو اپنے شوہر نواب کے ساتھ مزدوری کرتی ہے۔ نواب نے اسے اس کے باپ سے پانچ ہزار میں خریدا تھا۔ سلطانہ اتنی خوبصورت ہے کہ کام کی جگہ پر موجود ہر شخص اسے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ کسی کو کچھ نہیں کہتی ہے۔ نواب اس پر شک کرتا ہے اور ہر وقت اسے مارتا پیٹتا رہتا ہے۔