Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Salman Saeed's Photo'

سلمان سعید

1991 | دلی, انڈیا

نئی نسل کے مشہور شاعروں میں شامل

نئی نسل کے مشہور شاعروں میں شامل

سلمان سعید کے اشعار

24
Favorite

باعتبار

ہم ہیں زنجیروں کی کھن کھن کے بگاڑے ہوئے لوگ

تیری پازیب کی چھن چھن میں نہیں آ سکتے

عجیب ڈھنگ سے مجھ کو ملی ہے آزادی

پرندہ پنجرے میں پنجرہ ہوا میں رکھا گیا

آپ کے ہاتھ میں ہے مجھ سے تعلق کا ریموٹ

آپ چاہیں تو یہ چینل بھی بدل سکتے ہیں

فقط یہ لکڑی نہیں ہے تمہاری بیساکھی

شجر کے ہاتھ کٹے ہیں اسے بنانے میں

ترے کوچے کی مٹی با وفا ہے

مرے پیروں سے لپٹی جا رہی ہے

وہ ہجر زادے شب وصل یہ بھی بھول گئے

چراغ ان کو جلانے نہیں بجھانے تھے

پہلے فلمیں بھی حقیقت کی طرح ہوتی تھیں

اب حقیقت میں بھی فلموں کی طرح ہوتا ہے

جئے ہم روشنی بن کر ہمیشہ

مرے تو مر کے بھی تارے بنیں گے

لوگ کہتے ہیں مجھے اس لئے تنہائی پسند

مجھ سے پاگل کو کہیں پاس بٹھانا نہ پڑے

کسی بھی درجہ رعایت نہیں ہے وحشت میں

بچھڑ کے اس سے تمہیں قہقہے لگانے تھے

منایا جا رہا ہے غم تمہارا

پرانی فلم دیکھی جا رہی ہے

اس نے خط میں بنائیں ہیں آنسو

میں بھی اب سسکیاں بناؤں گا

خون سے مظلوم کے ہو تو گئے روشن چراغ

روشنی ایسی ہوئی پھر شہر اندھا ہو گیا

ہمارے کھیل کی گڑیا تمہی ہو

تمہارے کھیل کا گڈا نیا ہے

پھر اس کے بعد میں خود کو تلاش کرتا ہوں

یہی خرابی ہے اس کو گلے لگانے میں

Recitation

بولیے