سلمان سعید کے اشعار
ہم ہیں زنجیروں کی کھن کھن کے بگاڑے ہوئے لوگ
تیری پازیب کی چھن چھن میں نہیں آ سکتے
عجیب ڈھنگ سے مجھ کو ملی ہے آزادی
پرندہ پنجرے میں پنجرہ ہوا میں رکھا گیا
ترے کوچے کی مٹی با وفا ہے
مرے پیروں سے لپٹی جا رہی ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
لوگ کہتے ہیں مجھے اس لئے تنہائی پسند
مجھ سے پاگل کو کہیں پاس بٹھانا نہ پڑے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
پہلے فلمیں بھی حقیقت کی طرح ہوتی تھیں
اب حقیقت میں بھی فلموں کی طرح ہوتا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
آپ کے ہاتھ میں ہے مجھ سے تعلق کا ریموٹ
آپ چاہیں تو یہ چینل بھی بدل سکتے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
وہ ہجر زادے شب وصل یہ بھی بھول گئے
چراغ ان کو جلانے نہیں بجھانے تھے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
فقط یہ لکڑی نہیں ہے تمہاری بیساکھی
شجر کے ہاتھ کٹے ہیں اسے بنانے میں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
پھر اس کے بعد میں خود کو تلاش کرتا ہوں
یہی خرابی ہے اس کو گلے لگانے میں
جئے ہم روشنی بن کر ہمیشہ
مرے تو مر کے بھی تارے بنیں گے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
منایا جا رہا ہے غم تمہارا
پرانی فلم دیکھی جا رہی ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
خون سے مظلوم کے ہو تو گئے روشن چراغ
روشنی ایسی ہوئی پھر شہر اندھا ہو گیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہمارے کھیل کی گڑیا تمہی ہو
تمہارے کھیل کا گڈا نیا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کسی بھی درجہ رعایت نہیں ہے وحشت میں
بچھڑ کے اس سے تمہیں قہقہے لگانے تھے
اس نے خط میں بنائیں ہیں آنسو
میں بھی اب سسکیاں بناؤں گا