Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Sayed Ahmad Dehlvii's Photo'

سید احمد دہلوی

1846 - 1918 | دلی, انڈیا

معتبر اردو لغت 'فرہنگ آصفیہ' کے مصنف، ماہر لسانیات

معتبر اردو لغت 'فرہنگ آصفیہ' کے مصنف، ماہر لسانیات

سید احمد دہلوی کا تعارف

اصلی نام : احمد

پیدائش : 08 Jan 1846 | دلی

وفات : 11 May 1918 | دلی, انڈیا

شناخت: ممتاز ماہرِ لسانیات، لغت نویس، محقق، صحافی

سید احمد دہلوی اردو کے ان جلیل القدر اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے زبان و ادب، لغت نویسی اور تحقیق کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ وہ بالخصوص اپنی شہرۂ آفاق تصنیف فرہنگِ آصفیہ کے سبب اردو لغت نگاری کی تاریخ میں ایک نمایاں اور مستند مقام رکھتے ہیں۔ ان کی علمی بصیرت، زبان دانی اور تحقیقی انداز نے انہیں اپنے عہد کے ممتاز ماہرِ لسانیات کے طور پر پہچان عطا کی۔

سید احمد دہلوی 8 جنوری 1846ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی اور دینی خانوادے سے تھا۔ ان کے والد حافظ عبد الرحمن مونگیری تھے، جو ایک جید عالم تھے اور روحانی اعتبار سے حضرت عبدالقادر جیلانیؒ کے سلسلے سے نسبت رکھتے تھے۔ ابتدائی تعلیم گھر کے علمی ماحول میں حاصل کی جس نے ان کے اندر زبان و ادب سے گہری دلچسپی پیدا کی۔

تعلیم کے بعد انہوں نے تدریسی اور علمی خدمات کا آغاز کیا۔ دہلی کی عرب سرائے میں واقع مدرسہ شاہی میں تدریس سے وابستہ رہے، جہاں انہوں نے اردو اور فارسی کی تعلیم دی۔ بعد ازاں ہماچل پردیش کے مونسپل بورڈ ہائی اسکول میں بھی اردو و فارسی کے استاد مقرر ہوئے۔ علمی میدان میں ان کی قابلیت کے باعث وہ جامعہ پنجاب کے فیلو اور ممتحن بھی رہے۔ اسی طرح لاہور کے گورنمنٹ بُک ڈپو میں نائب مینجر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں، جہاں انہیں کتب اور علمی مواد کے ساتھ عملی وابستگی کا موقع ملا۔

لسانیات کے میدان میں ان کی خدمات نہایت اہم ہیں۔ 1873ء سے 1879ء کے درمیان انہوں نے مشہور مستشرق ایس ڈبلیو فیلن کے لسانیاتی منصوبوں میں تعاون کیا، جس سے ان کی علمی مہارت اور بین الاقوامی سطح پر زبان دانی کا اعتراف ہوتا ہے۔ اردو زبان کی ترویج اور اس کے فروغ کے لیے انہوں نے مختلف النوع کام کیے۔

صحافت کے میدان میں بھی انہوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔ 1884ء میں انہوں نے خواتین کے لیے ایک منفرد دس روزہ اخبار النساء جاری کیا، جو دہلی سے شائع ہوتا تھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ سماجی اصلاح اور تعلیم نسواں کے بھی حامی تھے۔

تصنیفی خدمات کے اعتبار سے سید احمد دہلوی کا دامن نہایت وسیع ہے۔ ان کی سب سے اہم اور معروف کتاب فرہنگِ آصفیہ ہے، جو اردو لغت نویسی کا ایک عظیم کارنامہ ہے۔ اس کے علاوہ رسومِ دہلی میں انہوں نے دہلی کی تہذیبی و معاشرتی زندگی کو محفوظ کیا۔ دیگر تصانیف میں ہادی النساء، لغات النساء، علم اللسان (جس میں زبان کی ابتدا، ارتقا اور انجام پر بحث کی گئی ہے)، محاکمہ مرکز اردو اور مناظرہ تقدیر و تدبیر (کنز الفوائد) شامل ہیں۔ ان کی تحریروں میں علمی وقار، سادگی اور تحقیقی گہرائی نمایاں نظر آتی ہے۔

ان کی خدمات کے اعتراف میں برطانوی حکومت نے 1914ء میں انہیں "خان صاحب" کے اعزاز سے نوازا۔

وفات: 11 مئی 1918ء کو ان کا انتقال ہوا۔

Recitation

بولیے