شاغل عثمانی کے اشعار
وعدہ تو وفا ہو کہ نہ ہو یہ ہے شکایت
لب سے کبھی نکلی نہیں تسکین کو ہاں تک
ہونے کو سحر آئی ہے خاموش ہو اے شمع
تو سوزش پروانہ پہ روئے گی کہاں تک
کعبہ میں کلیسا میں اسے ڈھونڈ کے آخر
حد یہ ہے کہ آ پہنچے ہیں اب کوئے بتاں تک
-
موضوع : کعبہ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
نور سحر و رنگ سحر پر نہیں موقوف
دشمن ہے شب وصل میں آواز اذاں تک
-
موضوع : وصل
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ساقی کا کرم دیکھ کہ اک آن میں شاغلؔ
پہنچا ہی دیا بارگہہ پیر مغاں تک
-
موضوع : ساقی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ