Shahryar's Photo'

شہریار

1936 - 2012 | علی گڑہ, ہندوستان

ممتاز جدید شاعروں میں شامل، نغمہ نگار، فلم ’امراؤ جان‘ کے گیتوں کے لیے مشہور۔ بھارتیہ گیان پیٹھ ایوارڈ یافتہ۔

ممتاز جدید شاعروں میں شامل، نغمہ نگار، فلم ’امراؤ جان‘ کے گیتوں کے لیے مشہور۔ بھارتیہ گیان پیٹھ ایوارڈ یافتہ۔

تخلص : 'شہریار'

اصلی نام : اخلاق محمّد خان شہریار

پیدائش : 06 Jun 1936, بریلی, ہندوستان

وفات : 13 Feb 2012

امید سے کم چشم خریدار میں آئے

ہم لوگ ذرا دیر سے بازار میں آئے

 

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔وہ 6 جون1936کو آنولہ ، ضلع بریلی ، اُتر پردیش میں پیدا ہُوئے۔ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔1948میں علی گڑھ آئے۔1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ہاکی،بیڈمنٹن اور رمی کھیلنا پسند کرتے تھے ۔اپنی مے نوشی کے لیے بھی جانے جاتے تھے ۔خلیل الرحمن اعظمی سے قربت کے بعد شاعری کا آغاز ہوا ۔کچھ غزلیں کنور محمد اخلاق کے نام سے شائع ہوئیں ۔شاذ تمکنت کے مشورے پر اپنا نام شہر یار رکھا ۔ان کے والد پولس انسپکٹر تھے ۔انجمن ترقی اردو (ہند )علی گڑھ میں لٹریری اسسٹنٹ بھی رہے اورانجمن کے رسائل اردو ادب اور ہماری زبان کی ادارت کی ۔مغنی تبسم کے ساتھ شعر وحکمت کی ادارت بھی کی ۔ان کی شہرت میں مظفر علی کی گمن اور امراؤں جان جیسی فلموں کا اہم رول ہے ۔فلم انجمن کے گانے بھی انہی کے لکھےہوئے ہیں۔ساہیتہ اکادمی کے لیے بیدار بخت نے مری این ائر کی مدد سے ان کے منتخب کلام کا انگریزی میں ترجمہ کیا ۔ایک انگریزی ترجمہ رخشندہ جلیل نے بھی کیا ہے ۔سنگ میل پبلی کیشنز پاکستان سے ان کا کلیات شائع ہوا جس میں ان کے چھے مجموعے شامل ہیں ۔یہی کلیات سورج کو نکلتا دیکھوں کے نام سے ہندوستان سے شائع ہو چکا ہے ۔ ان کے کلام کا ترجمہ فرانسیسی ،جرمن ، روسی ،مراٹھی ،بنگالی اور تیلگو میں ہو چکا ہے ۔گیان پیٹھ اور ساہتیہ اکیڈمی سمیت متعد د اعزازات سے نوازے گئے ۔13فرروری2012 کو داعی اجل کو لبیک کہا۔