Shahryar's Photo'

شہریار

1936 - 2012 | علی گڑہ, ہندوستان

ممتاز جدید شاعروں میں شامل، نغمہ نگار، فلم ’امراؤ جان‘ کے گیتوں کے لیے مشہور۔ بھارتیہ گیان پیٹھ ایوارڈ یافتہ۔

ممتاز جدید شاعروں میں شامل، نغمہ نگار، فلم ’امراؤ جان‘ کے گیتوں کے لیے مشہور۔ بھارتیہ گیان پیٹھ ایوارڈ یافتہ۔

شدید پیاس تھی پھر بھی چھوا نہ پانی کو

میں دیکھتا رہا دریا تری روانی کو

جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے

اس بہانے سے مگر دیکھ لی دنیا ہم نے

سیاہ رات نہیں لیتی نام ڈھلنے کا

یہی تو وقت ہے سورج ترے نکلنے کا

جہاں میں ہونے کو اے دوست یوں تو سب ہوگا

ترے لبوں پہ مرے لب ہوں ایسا کب ہوگا

گھر کی تعمیر تصور ہی میں ہو سکتی ہے

اپنے نقشے کے مطابق یہ زمیں کچھ کم ہے

یا تیرے علاوہ بھی کسی شے کی طلب ہے

یا اپنی محبت پہ بھروسا نہیں ہم کو

اب رات کی دیوار کو ڈھانا ہے ضروری

یہ کام مگر مجھ سے اکیلے نہیں ہوگا

پہلے نہائی اوس میں پھر آنسوؤں میں رات

یوں بوند بوند اتری ہمارے گھروں میں رات

شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہے

رشتہ ہی مری پیاس کا پانی سے نہیں ہے

آنکھ کی یہ ایک حسرت تھی کہ بس پوری ہوئی

آنسوؤں میں بھیگ جانے کی ہوس پوری ہوئی

کیا کوئی نئی بات نظر آتی ہے ہم میں

آئینہ ہمیں دیکھ کے حیران سا کیوں ہے

اک بوند زہر کے لیے پھیلا رہے ہو ہاتھ

دیکھو کبھی خود اپنے بدن کو نچوڑ کے

یہ جب ہے کہ اک خواب سے رشتہ ہے ہمارا

دن ڈھلتے ہی دل ڈوبنے لگتا ہے ہمارا

یہ کیا ہے محبت میں تو ایسا نہیں ہوتا

میں تجھ سے جدا ہو کے بھی تنہا نہیں ہوتا

جمع کرتے رہے جو اپنے کو ذرہ ذرہ

وہ یہ کیا جانیں بکھرنے میں سکوں کتنا ہے

سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کا

کہ کھیل ختم ہوا کشتیاں ڈبونے کا

عمر کا لمبا حصہ کر کے دانائی کے نام

ہم بھی اب یہ سوچ رہے ہیں پاگل ہو جائیں

آسماں کچھ بھی نہیں اب تیرے کرنے کے لیے

میں نے سب تیاریاں کر لی ہیں مرنے کے لیے

تو کہاں ہے تجھ سے اک نسبت تھی میری ذات کو

کب سے پلکوں پر اٹھائے پھر رہا ہوں رات کو

آنکھوں میں تیری دیکھ رہا ہوں میں اپنی شکل

یہ کوئی واہمہ یہ کوئی خواب تو نہیں