تصور کے موضوع پر شاعری

شاعری میں تصورایک بڑی طاقت کےطور پرابھرتا ہے ۔ ہرطرح کی مایوسی اورمحرومی کے باوجود عاشق کیلئے جوایک سہارا بچتا ہے وہ تصورہی ہے ۔ عاشق کیلئے معشوق سےبات چیت اوراس کا وصل اسی تصورکےسہارے ممکن ہے ۔ یوں بھی ہر شخص وہ تخلیق کارہویا عام آدمی دو دنیاؤں میں ہی جیتاہےایک تووہ دنیا جواس کےآس پاس پھیلی ہوئی سفاک دنیا ہے اوردوسری وہ دنیا جسے وہ اپنے تصور کے سہارے بسائے ہوئے ہے ۔ یہی اس کی طاقت ہے ۔ ہم نےکچھ ایسےشعروں کواکٹھا کیا ہے جن میں تصورکی مختلف صورتوں کا اظہار ہے ۔

ان کا غم ان کا تصور ان کی یاد

کٹ رہی ہے زندگی آرام سے

محشر عنایتی

جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن

بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے

Again this heart seeks those days of leisure as of yore

Sitting just enmeshed in thoughts of my paramour

Again this heart seeks those days of leisure as of yore

Sitting just enmeshed in thoughts of my paramour

مرزا غالب

ان کا غم ان کا تصور ان کے شکوے اب کہاں

اب تو یہ باتیں بھی اے دل ہو گئیں آئی گئی

ساحر لدھیانوی

میں جب بھی اس کے خیالوں میں کھو سا جاتا ہوں

وہ خود بھی بات کرے تو برا لگے ہے مجھے

جاں نثاراختر

پھر نظر میں پھول مہکے دل میں پھر شمعیں جلیں

پھر تصور نے لیا اس بزم میں جانے کا نام

فیض احمد فیض

جانے کیوں اک خیال سا آیا

میں نہ ہوں گا تو کیا کمی ہوگی

خلیل الرحمن اعظمی

خفا ہیں پھر بھی آ کر چھیڑ جاتے ہیں تصور میں

ہمارے حال پر کچھ مہربانی اب بھی ہوتی ہے

اختر شیرانی

ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو

دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

علامہ اقبال

چاہیئے اس کا تصور ہی سے نقشہ کھینچنا

دیکھ کر تصویر کو تصویر پھر کھینچی تو کیا

بہادر شاہ ظفر

گھر کی تعمیر تصور ہی میں ہو سکتی ہے

اپنے نقشے کے مطابق یہ زمیں کچھ کم ہے

شہریار

دنیائے تصور ہم آباد نہیں کرتے

یاد آتے ہو تم خود ہی ہم یاد نہیں کرتے

فنا نظامی کانپوری

لمحہ لمحہ مجھے ویران کئے دیتا ہے

بس گیا میرے تصور میں یہ چہرہ کس کا

دل ایوبی

یوں تری یاد میں دن رات مگن رہتا ہوں

دل دھڑکنا ترے قدموں کی صدا لگتا ہے

شہزاد احمد

رات بھر ان کا تصور دل کو تڑپاتا رہا

ایک نقشہ سامنے آتا رہا جاتا رہا

اختر شیرانی

اک تری یاد سے اک تیرے تصور سے ہمیں

آ گئے یاد کئی نام حسیناؤں کے

حبیب جالب

ہم ہیں اس کے خیال کی تصویر

جس کی تصویر ہے خیال اپنا

فانی بدایونی

تصور میں بھی اب وہ بے نقاب آتے نہیں مجھ تک

قیامت آ چکی ہے لوگ کہتے ہیں شباب آیا

حفیظ جالندھری

یوں برستی ہیں تصور میں پرانی یادیں

جیسے برسات کی رم جھم میں سماں ہوتا ہے

قتیل شفائی

ہیں تصور میں اس کے آنکھیں بند

لوگ جانیں ہیں خواب کرتا ہوں

میر محمدی بیدار

تصور زلف کا ہے اور میں ہوں

بلا کا سامنا ہے اور میں ہوں

لالہ مادھو رام جوہر

پوری ہوتی ہیں تصور میں امیدیں کیا کیا

دل میں سب کچھ ہے مگر پیش نظر کچھ بھی نہیں

لالہ مادھو رام جوہر

محو ہوں اس قدر تصور میں

شک یہ ہوتا ہے میں ہوں یا تو ہے

جلیل مانک پوری

یاد میں خواب میں تصور میں

آ کہ آنے کے ہیں ہزار طریق

بیان میرٹھی

کھل نہیں سکتی ہیں اب آنکھیں مری

جی میں یہ کس کا تصور آ گیا

خواجہ میر درد

اس قدر محو تصور ہوں کہ شک ہوتا ہے

آئینے میں مری صورت ہے کہ صورت تیری

جلیل مانک پوری

لب خیال سے اس لب کا جو لیا بوسہ

تو منہ ہی منہ میں عجب طرح کا مزا آیا

جرأت قلندر بخش

بچھڑ کر اس سے سیکھا ہے تصور کو بدن کرنا

اکیلے میں اسے چھونا اکیلے میں سخن کرنا

نشتر خانقاہی

تیرے خیال کے دیوار و در بناتے ہیں

ہم اپنے گھر میں بھی تیرا ہی گھر بناتے ہیں

جمیل الدین عالی

جوش جنوں میں لطف تصور نہ پوچھیے

پھرتے ہیں ساتھ ساتھ انہیں ہم لیے ہوئے

جلیل مانک پوری

میرے پہلو میں تم آؤ یہ کہاں میرے نصیب

یہ بھی کیا کم ہے تصور میں تو آ جاتے ہو

غلام بھیک نیرنگ

ہے آباد میرے تصور کی دنیا

حسیں آ رہے ہیں حسیں جا رہے ہیں

جلیل مانک پوری

نہ ہوگا کوئی مجھ سا محو تصور

جسے دیکھتا ہوں سمجھتا ہوں تو ہے

گویا فقیر محمد

دیکھوں ہوں تجھ کو دور سے بیٹھا ہزار کوس

عینک نہ چاہئے نہ یہاں دوربیں مجھے

شیخ ظہور الدین حاتم

میں اک تھکا ہوا انسان اور کیا کرتا

طرح طرح کے تصور خدا سے باندھ لیے

فاضل جمیلی

میں کہ تیرے دھیان میں گم تھا

دنیا مجھ کو ڈھونڈھ رہی تھی

کرامت بخاری

میں نے تو تصور میں اور عکس دیکھا تھا

فکر مختلف کیوں ہے شاعری کے پیکر میں

خوشبیر سنگھ شادؔ

کچھ تو ملتا ہے مزہ سا شب تنہائی میں

پر یہ معلوم نہیں کس سے ہم آغوش ہوں میں

مصحفی غلام ہمدانی

جو تصور سے ماورا نہ ہوا

وہ تو بندہ ہوا خدا نہ ہوا

اقبال سہیل

یہاں تو پیک تصور سے کام چلتا ہے

صبا نہیں نہ سہی نامہ بر نہیں نہ سہی

جلیل مانک پوری