Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

شرف الدین یحییٰ منیری

1263 - 1380 | نالندہ, انڈیا

برصغیر کے مشہور صوفی - اپنے مکتوبات و ملفوظات کے لیے مشہور

برصغیر کے مشہور صوفی - اپنے مکتوبات و ملفوظات کے لیے مشہور

شرف الدین یحییٰ منیری کا تعارف

اصلی نام : شرف الدین احمد

پیدائش :پٹنہ, بہار

وفات : نالندہ, بہار

LCCN :n80040239

شناخت: عظیم صوفی بزرگ، سلسلۂ فردوسیہ کے ممتاز پیشوا، صاحبِ مکتوبات بزرگ اور برصغیر میں تصوف و روحانیت کے مؤثر مبلغ

حضرت مخدوم الملک شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری، جو ’’مخدومِ جہاں‘‘ اور ’’مخدوم الملک بہاری‘‘ کے نام سے بھی معروف ہیں، برصغیر کے عظیم صوفیہ میں شمار کیے جاتے ہیں۔

شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری کی ولادت شعبان المعظم 661ھ موافق 1263ء میں منیرشریف ضلع پٹنہ میں ہوئی۔ آپ کے والد شیخ کمال الدین یحییٰ منیری سلسلۂ سہروردیہ کے بزرگ تھے، جبکہ والدہ بی بی رضیہ ایک معزز روحانی خانوادے سے تعلق رکھتی تھیں۔ آپ کے نانا سید شہاب الدین سہروردی المعروف پیر جگجوت ہندوستان میں سلسلۂ سہروردیہ کے اولین بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں اور حضرت شہاب الدین عمر سہروردی کے براہِ راست شاگرد تھے۔ اس روحانی اور علمی ماحول نے حضرت مخدومِ جہاں کی شخصیت کو ابتدا ہی سے تصوف، زہد اور علم کی طرف مائل کیا۔

ابتدائی تعلیم کے بعد کم عمری ہی میں آپ نے عربی، فارسی، منطق، فلسفہ اور دینی علوم کی تحصیل شروع کردی۔ اس مقصد کے لیے آپ نے بنگال کے معروف عالم حضرت شرف الدین ابو توامہ بخاری سے طویل عرصہ کسبِ فیض کیا اور تقریباً چوبیس برس ان کی صحبت میں رہے۔ بعد ازاں دہلی تشریف لے گئے جہاں اس زمانے کے عظیم صوفیہ اور اہلِ علم سے ملاقاتیں ہوئیں۔ وہیں آپ کے بڑے بھائی مخدوم جلیل الدین منیری نے آپ کو شیخ نجیب الدین فردوسی سے متعارف کرایا، جن سے آپ نے بیعت کی اور سلسلۂ فردوسیہ سے وابستہ ہوئے۔ اسی نسبت سے آپ کو ’’فردوسی‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

حضرت مخدومِ جہاں نے دنیاوی آسائشوں سے کنارہ کش ہو کر مجاہدہ، ریاضت اور روحانی تربیت کی راہ اختیار کی۔ آپ نے بہیہ کے جنگلات اور بعد ازاں راجگیر کی پہاڑیوں میں طویل عرصے تک عبادت، ذکر اور مجاہدات میں وقت گزارا۔ راجگیر میں جس مقام پر آپ عبادت کیا کرتے تھے وہاں موجود گرم چشمہ آج بھی ’’مخدوم کنڈ‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ تقریباً تیس برس کی خلوت و ریاضت کے بعد آپ بہار شریف واپس تشریف لائے جہاں آپ کی علمی و روحانی عظمت کا چرچا دور دور تک پھیل گیا۔ سلطان محمد بن تغلق نے آپ کے لیے ایک خانقاہ تعمیر کروائی جہاں آپ نے مریدوں کی تربیت، درس و تدریس اور اشاعتِ تصوف کا عظیم کام انجام دیا۔

حضرت مخدومِ جہاں کی اصل عظمت ان کی روحانی تعلیمات، مکتوبات اور ملفوظات میں نمایاں ہوتی ہے۔ آپ کے مکتوبات کو تصوف میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے اور انہیں سلوک و معرفت کی عملی رہنمائی کا معتبر سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔ ’’مکتوباتِ صدی‘‘، ’’مکتوباتِ بست و ہشت‘‘ اور ’’فوائدِ رکنی‘‘ آپ کی اہم تصانیف میں شمار ہوتے ہیں۔ ان تحریروں میں تصوف، اخلاق، معرفتِ الٰہی، تزکیۂ نفس اور انسانی کردار کی اصلاح پر نہایت گہرے افکار ملتے ہیں۔ آپ کی تعلیمات میں شریعت اور طریقت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے، جہاں روحانی بالیدگی کے ساتھ اخلاقی پاکیزگی اور انسانی خدمت کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

حضرت مخدومِ جہاں کی خانقاہ برصغیر میں روحانی، علمی اور سماجی مرکز کی حیثیت اختیار کرگئی تھی۔ آپ کے فیض یافتگان میں علما، صوفیہ، حکمران اور عوام سب شامل تھے۔ آپ نے تصوف کو محض گوشہ نشینی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے انسان دوستی، اخلاقی اصلاح اور روحانی تربیت کا ذریعہ بنایا۔ اسی سبب آپ کو ’’مخدومِ جہاں‘‘ کا خطاب ملا اور آپ کی شخصیت صدیوں سے اہلِ دل کے لیے مرکزِ عقیدت بنی ہوئی ہے۔

وفات: آپ کا انتقال 5 شوال 786ھ موافق 1380ء کو شب ہوا۔ آپ کا مزار بہار شریف، ضلع نالندہ میں واقع ’’بڑی درگاہ‘‘ میں مرجعِ خلائق ہے، جہاں ہر سال شوال کے مہینے میں پانچ روزہ عرس عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد کیا جاتا ہے۔

Recitation

بولیے