Shaukat Pardesi's Photo'

شوکت پردیسی

1924 - 1995 | جون پور, ہندوستان

شاعر،ادیب ،صحافی،نغمہ نگار، غلام بیگم بادشاہ اور جھانسی کی رانی جیسی فلموں کے مکالمہ نگار

شاعر،ادیب ،صحافی،نغمہ نگار، غلام بیگم بادشاہ اور جھانسی کی رانی جیسی فلموں کے مکالمہ نگار

425
Favorite

باعتبار

اس کی ہنسی تم کیا سمجھو

وہ جو پہروں رویا ہے

اے انقلاب نو تری رفتار دیکھ کر

خود ہم بھی سوچتے ہیں کہ اب تک کہاں رہے

اپنے پرائے تھک گئے کہہ کر ہر کوشش بیکار رہی

وقت کی بات سمجھ میں آئی وقت ہی کے سمجھانے سے

کسی کی بازی کیسی گھات

وقت کا پانسہ وقت کی بات

ہوش والے تو الجھتے ہی رہے

راستے طے ہوئے دیوانوں سے

حسن اخلاص ہی نہیں ورنہ

آدمی آدمی تو آج بھی ہے

ہائے اس منت کش وہم و گماں کی جستجو

زندگی جس کو نہ پاے جو نہ پاے زندگی

قریب سے اسے دیکھو تو وہ بھی تنہا ہے

جو دور سے نظر آتا ہے انجمن یارو

کیا بڑھے گا وہ تصور کی حدوں سے آگے

صبح کو دیکھ کے یاد آئے جسے شام کی بات

اس فیصلے پہ لٹ گئی دنیائے اعتبار

ثابت ہوا گناہ گنہ گار کے بغیر

وہ آنکھیں جو اب اجنبی ہو گئی ہیں

بہت دور تک ان میں پایا گیا ہوں

نگاہ کو بھی میسر ہے دل کی گہرائی

یہ ترجمان محبت ہے بے زباں نہ کہو

ہوائیں روک نہ پائیں بھنور ڈبو نہ سکے

وہ ایک ناؤ جو عزم سفر کے بعد چلی

تم ہی اب وہ نہیں رہے ورنہ

وہی عالم وہی خدائی ہے

شوکتؔ وہ آج آپ کو پہچان تو گئے

اپنی نگاہ میں جو کبھی آسماں رہے

خود وہ کرتے ہیں جسے عہد وفا سے تعبیر

سچ تو یہ ہے کہ وہ دھوکا بھی مجھے یاد نہیں

کچھ تو فطرت سے ملی دانائی

کچھ میسر ہوئی نادانوں سے

ان کی نگاہ ناز کی گردش کے ساتھ ساتھ

محسوس یہ ہوا کہ زمانہ بدل گیا

پھونک کر سارا چمن جب وہ شریک غم ہوئے

ان کو اس عالم میں بھی غم آشنا کہنا پڑا

زندگی سے کوئی مانوس تو ہو لے پہلے

زندگی خود ہی سکھا دے گی اسے کام کی بات

ادھورا ہو کے ہوں کتنا مکمل

بہ مشکل زندگی بکھرا ہوا ہوں

عہد آغاز تمنا بھی مجھے یاد نہیں

محو حیرت ہوں کہ اتنا بھی مجھے یاد نہیں

حدود جسم سے آگے بڑھے تو یہ دیکھا

کہ تشنگی تھی برہنہ تری اداؤں تک

یہ کیسی بے قراری سننے والوں کے دلوں میں ہے

ورق دہرا رہا ہے کیا کوئی میری کہانی کا

نا شناسان محبت کا گلہ کیا کہ یہاں

اجنبی وہ ہیں کہ تھی جن سے شناسائی بھی

ہنستے ہنستے بہے ہیں آنسو بھی

روتے روتے ہنستی بھی آئی ہمیں

موج طوفاں سے نکل کر بھی سلامت نہ رہے

نذر ساحل ہوئے دریا کے شناور کتنے

شریک درد نہیں جب کوئی تو اے شوکتؔ

خود اپنی ذات کی بے چارگی غنیمت ہے

دیتا رہا فریب مسلسل کوئی مگر

امکان التفات سے ہم کھیلتے رہے

اگر تم مل بھی جاتے تو نہ ہوتا ختم افسانہ

پھر اس کے بعد دل میں کیا خبر کیا آرزو ہوتی

جب مصلحت وقت سے گردن کو جھکا کر

وہ بات کرے ہے تو کوئی تیر لگے ہے

رات اک نادار کا گھر جل گیا تھا اور بس

لوگ تو بے وجہ سناٹے سے گھبرانے لگے

برق کی شعلہ مزاجی ہے مسلم لیکن

میں نے دیکھا مرے سائے سے یہ کتراتی ہے

جی میں آتا ہے کہ شوکتؔ کسی چنگاری کو

کر دوں پھر شعلہ بداماں کہ کوئی بات چلے