شہلا کلیم کے اشعار
حاصل ہوا ہے تجھ کو مجھی سے شعور ذات
میں تیرا آئنہ ہوں مرا احترام کر
کوزہ گر کس کو میسر رہی فرصت تیری
کیوں ہمیں چاک سے عجلت میں اتارا تو نے
معجزات دست کن دیکھنے تھے سو ہم نے
پتھروں پہ دے مارا خود کو آئینہ کر کے
اگر میں چاہوں بس اک چال سے الٹ دوں بساط
مجھے خبر ہے کہاں کس نے داؤ کھیلا ہے
شکستگی تھی کچھ ایسی کہ کوزہ گر میرا
بنا کے مجھ کو بڑی دیر تک اداس رہا
اے نقش گر یقین کر اچھا نہیں بنا
لا پھر سے کائنات کا نقشہ بناؤں میں
بچوں کے ہاتھ میں بھلا دیتے ہیں ایسی چیز
دیکھو خراب ہو گئی مجھ سے یہ زندگی
بزم فلک میں کون ہے اس کی رعنائی کا محرم راز
کس کو اپنے دامن دل کے داغ دکھائے گا مہتاب
کیا پا سکے گی دنیا ہمارے دکھوں کا رمز
روتے ہیں قہقہوں سے تو ہنستے ہیں پھوٹ کے