سراج انور کا تعارف
شناخت: اردو ادبِ اطفال کے مقبول فکشن نگار اور بچوں کے طویل مہماتی ناولوں کے اوّلین مصنف
سراج انور1933ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ وہ ادبِ اطفال کے نہایت مقبول اور منفرد ناول نگار تھے، جنہیں اردو میں بچوں کے لیے طویل مہماتی ناول لکھنے والے اولین ادیبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اگرچہ انہیں فوٹوگرافی سے خاص شغف تھا، تاہم بچوں سے غیر معمولی محبت کے باعث انہوں نے اپنی پوری ادبی زندگی بچوں کے لیے وقف کر دی اور اس عہد کو آخر دم تک نبھایا۔
انہوں نے بچوں کے لیے سینکڑوں کہانیاں، ڈرامے، فیچر اور ناول تحریر کیے، جو برصغیر کے متعدد معروف رسائل میں شائع ہوتے رہے۔ ان کی تحریریں پاکستان کے رسائل بچوں کی دنیا اور بچوں کا باغ کے علاوہ ہندوستان کے مشہور رسالے کھلونا میں بھی شائع ہوتی تھیں۔ ان کے ناولوں نے پاک و ہند دونوں ممالک میں بچوں اور نو عمر قارئین میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔
ان کی پہلی مطبوعہ کتاب خون کا دریا 1958ء میں شائع ہوئی، جس کی اشاعت ہی سے ان کی مقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کے مشہور ترین ناولوں میں خوفناک جزیرہ، کالی دنیا، نیلی دنیا، دوڑتا جنگل، دوسرا زینہ، بھوتوں کا خزانہ، تجوری کا راز، سونے کا شہر، جادو کی آنکھیں، نقاب کا عذاب، بوتل کے قیدی، کالا جزیرہ اور جادو کا دروازہ شامل ہیں۔ انہوں نے بچوں کے مزاحیہ ریڈیائی ڈرامے بھی لکھے جو کافی مقبول ہوئے۔
ان کے طویل مہماتی ناولوں کی خاص پہچان ان کا مرکزی کردار فیروز ہے، جو پراسرار جزیروں، زیرِ زمین دنیا، برفانی انسانوں، بونوں، خزانے کے جزیروں اور خیالی مخلوقات سے بھرپور حیرت انگیز مہمات میں دکھائی دیتا ہے۔ ان ناولوں نے اردو بچوں کے ادب میں مہماتی فکشن کی نئی روایت قائم کی۔
سراج انور نے اپنے تخیل، تجسس اور مسلسل ادبی خدمت کے ذریعے اردو ادبِ اطفال کو ایک نئی جہت عطا کی اور بچوں کے لیے سنجیدہ و معیاری ناول نگاری کی بنیاد مضبوط کی۔
وفات: 4 مارچ 1991ء میں انتقال ہوا۔