سید جلال الدین عمری کا تعارف
شناخت: اسلامی مفکر، مصنف، دانشور اور جماعتِ اسلامی ہند کے سابق امیر
سید جلال الدین عمری 1935ء میں تمل ناڈو کے ضلع شمالی آرکاٹ کے گاؤں پتّگرم میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام سید حسین تھا۔ ابتدائی تعلیم گاؤں ہی کے اسکول میں حاصل کی، بعد ازاں جامعہ دارالسلام عمر آباد میں داخلہ لیا جہاں 1954ء میں فضیلت کی تکمیل کی۔ اسی دوران مدراس یونیورسٹی سے فارسی زبان و ادب کی ڈگری ’’منشی فاضل‘‘ حاصل کی۔ بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے بھی کیا۔
مولانا عمری کا شمار ہندوستان کی اسلامی تحریک کے ممتاز رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ وہ طویل عرصے تک جماعتِ اسلامی ہند سے وابستہ رہے اور 2007ء سے 2019ء تک جماعت کے امیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ان کی قیادت میں جماعت نے دعوت، اصلاحِ معاشرہ، تعلیم اور ملی مسائل کے میدان میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر بھی رہے، جبکہ جامعۃ الفلاح بلریا گنج، اعظم گڑھ کے شیخ الجامعہ کی ذمہ داری بھی سنبھالی۔ اس کے علاوہ مسلم مجلسِ مشاورت، اشاعتِ اسلام ٹرسٹ دہلی، دعوت ٹرسٹ اور دیگر دینی و ملی اداروں سے بھی وابستہ رہے۔
دعوتی اور تنظیمی مصروفیات کے باوجود سید جلال الدین عمری نے علمی و تصنیفی میدان میں غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ جماعت اسلامی ہند کے شعبۂ تصنیف و تالیف اور ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی سے وابستہ رہتے ہوئے انہوں نے اسلام، معاشرت، انسانی مسائل، خواتین، دعوتِ دین اور سماجی موضوعات پر متعدد اہم کتابیں لکھیں۔ ان کی تصانیف میں فکری گہرائی، اعتدال، عصری شعور اور سادہ اسلوب نمایاں نظر آتا ہے۔
ان کی اہم کتابوں میں ’’اسلام کا عائلی نظام‘‘، ’’اسلام اور دعوت‘‘، ’’انسان اور اس کے مسائل‘‘، ’’انسانوں کی خدمت‘‘، ’’عورت اسلامی معاشرے میں‘‘، ’’عورت اسلام کے سائے میں‘‘، ’’اسلام انسانی حقوق کا پاسبان‘‘ اور ’’خدا اور رسول کا تصور اسلامی تعلیمات میں‘‘ شامل ہیں۔
جلال الدین عمری ماہنامہ 'زندگیِ نو' اور سہ ماہی 'تحقیقات اسلامی' کے کے مدیر بھی رہے۔
وفات: سید جلال الدین عمری کا انتقال 26 اگست 2022ء کو دہلی میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Jalaluddin_Umri
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n85184859