سید معین الرحمٰن کا تعارف
شناخت: نقاد، محقق اورغالب شناس
ڈاکٹر سید معین الرحمٰن 5 نومبر 1942ء کو بھٹنڈہ، ریاست پٹیالہ (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد 1959ء میں بہاول کالج بہاولنگر سے انٹرمیڈیٹ کیا۔ بعد ازاں اردو کالج کراچی سے بی اے، اردو لا کالج کراچی سے ایل ایل بی اور جامعہ کراچی سے 1964ء میں ایم اے (اردو) کی ڈگری حاصل کی۔ 1972ء میں جامعہ سندھ سے پی ایچ ڈی مکمل کی۔
تعلیمی و تدریسی زندگی کا آغاز گورنمنٹ کالج بہاولنگر میں شعبۂ اردو کے لیکچرار کی حیثیت سے کیا۔ بعد ازاں اورینٹل کالج لاہور، ایف سی کالج لاہور اور گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ 1981ء سے 2002ء تک گورنمنٹ کالج لاہور میں پروفیسر اور صدرِ شعبۂ اردو رہے۔ اسی ادارے میں وہ ڈین فیکلٹی آف آرٹس کے منصب پر بھی فائز رہے۔ وہ شعبۂ اردو کے علمی مجلے ’’تحقیق نامہ‘‘ کے مدیر بھی تھے اور ان کی ادارت میں یہ رسالہ اردو تحقیق کے معتبر جرائد میں شمار ہونے لگا۔
ڈاکٹر معین الرحمٰن اردو تحقیق، غالبیات اور اقبالیات کے میدان میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کی علمی و تحقیقی خدمات کا بڑا حصہ مرزا غالب کی شخصیت، شاعری اور علمی سرمایہ کے مطالعے پر مشتمل ہے۔ ’’غالب اور انقلابِ ستاون‘‘، ’’نقوشِ غالب‘‘، ’’بازیافتِ غالب‘‘، ’’غالب کا علمی سرمایہ‘‘ اور ’’غالبیات کا تحقیقی مطالعہ‘‘ جیسی تصانیف انہیں معتبر غالب شناسوں میں شامل کرتی ہیں۔
اقبالیات کے میدان میں بھی انہوں نے قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔ ’’جامعات میں اقبال کا تحقیقی و توضیحی مطالعہ‘‘ اور ’’جہانِ اقبال‘‘ جیسی کتابوں میں انہوں نے اقبال فہمی اور جامعاتی تحقیق کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ ’’اردو ڈراما، فن اور منزلیں‘‘، ’’فورٹ ولیم کالج‘‘، ’’مطالعۂ یلدرم‘‘ اور ’’قائد اعظم اور لائل پور‘‘ جیسی تصانیف بھی ان کی علمی وسعت کی آئینہ دار ہیں۔
ڈاکٹر معین الرحمٰن نے تدوین و ترتیب کے میدان میں بھی اہم خدمات انجام دیں۔ ’’دیوانِ غالب نسخۂ خواجہ‘‘ کی تدوین، ’’آپ بیتی رشید احمد صدیقی‘‘ کی ترتیب اور ’’دل کی کتاب‘‘ جیسی کتابوں کی ترتیب و اشاعت ان کے ذوقِ تحقیق کا ثبوت ہیں۔
وفات: ڈاکٹر سید معین الرحمٰن کا انتقال 15 اگست 2005ء کو لاہور میں ہوا۔