طارق نعیم کے شعر

1.5K
Favorite

باعتبار

زمین اتنی نہیں ہے کہ پاؤں رکھ پائیں

دل خراب کی ضد ہے کہ گھر بنایا جائے

عجیب درد کا رشتہ تھا سب کے سب روئے

شجر گرا تو پرندے تمام شب روئے

ابھی پھر رہا ہوں میں آپ اپنی تلاش میں

ابھی مجھ سے میرا مزاج ہی نہیں مل رہا

اب آسمان بھی کم پڑ رہے ہیں اس کے لیے

قدم زمین پر رکھا تھا جس نے ڈرتے ہوئے

کھول دیتے ہیں پلٹ آنے پہ دروازۂ دل

آنے والے کا ارادہ نہیں دیکھا جاتا

اٹھا اٹھا کے ترے ناز اے غم دنیا

خود آپ ہی تری عادت خراب کی ہم نے

رات رو رو کے گزاری ہے چراغوں کی طرح

تب کہیں حرف میں تاثیر نظر آئی ہے

کوئی کب دیوار بنا ہے میرے سفر میں

خود ہی اپنے رستے کی دیوار رہا ہوں

یہ خیال تھا کبھی خواب میں تجھے دیکھتے

کبھی زندگی کی کتاب میں تجھے دیکھتے

بے وجہ نہ بدلے تھے مصور نے ارادے

میں اس کے خیالات میں پہلے بھی کہیں تھا

جمال مجھ پہ یہ اک دن میں تو نہیں آیا

ہزار آئینے ٹوٹے مرے سنورتے ہوئے

ابھی تو منصب ہستی سے میں ہٹا ہی نہیں

بدل گئے ہیں مرے دوستوں کے لہجے بھی

ترے خیال کی لو ہی سفر میں کام آئی

مرے چراغ تو لگتا تھا روئے اب روئے

عجب نہیں در و دیوار جیسے ہو جائیں

ہم ایسے لوگ جو خود سے کلام کرتے ہیں

کنارہ کر نہ اے دنیا مری ہست زبونی سے

کوئی دن میں مرا روشن ستارہ ہونے والا ہے

یہ ویرانی سی یوں ہی تو نہیں رہتی ہے آنکھوں میں

مرے دل ہی سے کوئی جادۂ وحشت نکلتا ہے

وہ آئینہ ہے تو حیرت کسی جمال کی ہو

جو سنگ ہے تو کہیں رہ گزر میں رکھا جائے

خوش ارزانی ہوئی ہے اس قدر بازار ہستی میں

گراں جس کو سمجھتا ہوں وہ کم قیمت نکلتا ہے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے