584
Favorite

باعتبار

نفرتوں کا عکس بھی پڑنے نہ دینا ذہن پر

یہ اندھیرا جانے کتنوں کا اجالا کھا گیا

ہم بزرگوں کی روایت سے جڑے ہیں بھائی

نیکیاں کر کے کبھی پھل نہیں مانگا کرتے

سفر انجام تک پہنچے تو کیسے

میں اپنے راستے میں خود کھڑا ہوں

ہر طرف پھیلا ہوا بے سمت بے منزل سفر

بھیڑ میں رہنا مگر خود کو اکیلا دیکھنا

سبھی زخموں کے ٹانکے کھل گئے ہیں

ہمیں ہنسنا بہت مہنگا پڑا ہے

کبھی زمانہ تھا اس کی طلب میں رہتے تھے

اور اب یہ حال ہے خود کو اسی سے مانگتے ہیں

ایک سائے کی طلب میں زندگی پہنچی یہاں

دور تک پھیلا ہوا ہے مجھ میں منظر دھوپ کا

وہ موسموں پر اچھالتا ہے سوال کتنے

کبھی تو یوں ہو کہ آسماں سے جواب برسے

اس کے وعدے کے عوض دے ڈالی اپنی زندگی

ایک سستی شے کا اونچے بھاؤ سودا کر لیا

یہ بپھرتی موج اندیشے سمندر اور میں

ڈوبتی سانسیں ہتھیلی پر مرا سر اور میں