ویریندر پٹواری کا تعارف
اصلی نام : پنڈت وریندر کمار پٹواری
پیدائش : 11 Sep 1940 | سری نگر, جموں و کشمیر
وفات : 28 Apr 2026 | سری نگر, جموں و کشمیر
وریندر پٹواری کا اصل نام پنڈت وریندر کمار پٹواری ہے۔ ان کی ولادت 11 ستمبر 1940ء کو پنڈت پریم ناتھ پٹواری کے گھر سری نگر، جموں و کشمیر میں ہوئی تھی۔ وریندر پٹواری کے والد پنڈت پریم ناتھ پٹواری اردو اور کشمیری زبان میں شاعری بھی کرتے تھے جب کہ ان کی والدہ کا نام دھنّہ وتی پٹواری تھا۔ گھرکا ادبی ماحول ہونے کے سبب وریندر پٹواری نےبھی اس ادبی ماحول میں خود کو ضم کرلیا اور تخلیقی سرگرمیوں کی طرف ان کا رجحان بڑھتا چلا گیا۔
انھوں نے افسانے بڑی تعداد میں لکھے، ڈرامے بھی تخلیق کیے اور نظمیہ شاعری بھی کی۔ ان کا انتقال 28 اپریل 2026ء کو ہوا۔ ان کی تصنیفات کی تعداد کثیر ہیں۔ ”فرشتے خاموش ہیں (کہانیوں کا مجموعہ):1980ء، آخری دن (ڈرامے):1984ء، دوسری کرن(کہانیاں)، 1985ء، بے چین لمحوں کا تنہا سفر( کہانیاں):1988ء، آواز شرگوشیوں کی (منتخب افسانے):1994ء، کب بھور ہوگی (ناولٹ):2000ء، ایک ادھوری کہانی (کہانیوں کا مجموعہ):2002ء، افق(کہانیوں کا مجموعہ):2003ء، انسان (ڈراموں کا مجموعہ):2006ء، دائرے(افسانے):2010ء، آفتوں کے دور میں (افسانوی مجموعہ):2011ء، لالہ رُخ (پچاس منٹخب افسانوں کا مجموعہ):2013ء، میری آواز سنو (نظمیں):2022ء، تماشائی (افسانوی مجموعہ):2022ء اور میری کشتی لوٹا دو (افسانوی مجموعہ):2025ء۔
ان کی کہانیاں ملک کے تقریباً 50 رسائل میں 1965ء سے متواتر شائع ہوچکی ہیں جن میں چند کے نام درج ذیل ہیں۔ ”آج کل“ نئی دہلی، ”ایوانِ اردو“ نئی دہلی، ”ایوانِ ادب“ دہلی، ”شاعر“ ممبئی، ”پروازِ ادب“پٹیالہ، ”تعمیر“ کشمیر، ”سہیل“ بہار، ”استعارہ“ دہلی اور ”فلمی ستارے“دہلی۔ ان کے 15 ریڈیو ڈرامے آل انڈیا ریڈیو پر نشر ہوئے ہیں۔
رائٹر، پروڈیوسر اور ڈائرکٹر وید راہی کے مطابق ”وریندر پٹواری پیشے سےایک سول انجنیئر تھے اور قارئین اور سامعین کے لیے شوقیہ لکھا کرتے تھے لیکن جب سے حادثے کا شکار ہو کر چلنے پھر سے معذور ہوگئے تب سے اپنے قلم کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ کر کورے قرطاس پر یوں تحریریں لکھتے رہتے ہیں گویا ایک کینوس پر تصویریں بناتے ہوں۔ ملک کا شاید ہی کوئی اردو جریدہ ہوگا جس میں وریندر پٹواری کی کہانیاں، نظثری نظمیں یا ڈرامے نہ نظر آتے ہوں گے۔“