Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

وحید عرشی

1943 - 1986 | کولکاتا, انڈیا

بنگال سے تعلق رکھنے والے شاعر، ادیب، معلم اور مصور

بنگال سے تعلق رکھنے والے شاعر، ادیب، معلم اور مصور

وحید عرشی کا تعارف

تخلص : 'وحید'

اصلی نام : خواجہ وحید الحق

پیدائش : 27 Sep 1943 | مغربی بنگال

وفات : 03 Feb 1986 | مغربی بنگال

ارماں کے تابوت میں جب میں وقت کی کیلیں گاڑ چکوں گا

پھر جب بھی تم یاد آؤ گے بہہ جاؤ گے اشکوں میں

وحید عرشی کا اصل نام خواجہ وحیدالحق ہے۔ ان کی ولادت 27 دسمبر 1943ء کو نرائن پور، بھاٹ پاڑہ، 24 پرگنہ، مغربی بنگال میں ہوئی۔ وحید عرشی کے والد کا نام محمد حنیف جب کہ والدہ کا نام زبیدہ خاتون ہے۔ وہ کلکتہ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے (گولڈ مڈلسٹ) تھے۔ پیشہ درس و تدریس تھا۔ حمایت الغرباء ہائی اسکول (کانکی نارہ) اور بھوانی پور ایجوکیشنل سوسائٹی سے بحیثیت معلم منسلک تھے۔

وحید عرشی کو شاعری، نثرنگاری اور مصوری سے بھی رغبت تھی۔ ان کا نتقال 03 فروری 1986ء میں ہوگیا۔ ان کی وفات کے بعد ان کا شعری مجموعہ 1991ء میں ”یادوں کا زنداں“ کے نام سے منظرِ عام پر آیا جس کے مرتب کمال جعفری ہیں۔ بعد از اں محمد طیب نعمانی نے 2011ء میں وحید عرشی پر ایک کتاب ”وحید شناسی“ کے نام سے شائع کی جس میں وحید عرشی کی تخلیقی کاوش پر اہلِ قلم حضرات کے مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی کچھ غیرمطبوعہ تخلیقات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

ممتاز شاعر اور ادیب مظہر امام نے وحید عرشی کے شعری مجموعہ ”یادوں کا زنداں“ کے فلیپ پر درج ذیل آراء کا اظہار کیا ہے۔
”شاعر خواہ خود لہولہان ہو لیکن اس کی شاعری اگر دوسرے کے زخموں کا مرہم نہیں بنتی تو بے توقیر ہوجاتی ہے۔ وحید عرشی کی شاعری میں فرد کا ہی نہیں ، انجمن کا غم بھی شامل ہے۔ ان کے فن کے لمس سے دلوں میں تازگی اور توانائی کے چراغ جل اٹھتے ہیں۔“

موضوعات

Recitation

بولیے