یشوردھن مشرا کے اشعار
رنگ سارے آ گئے عارض پہ میرے
جب کہا اس نے مجھے ہولی مبارک
دیکھ سکتا ہوں بنا چشمے کے میں
دوست تیری بے وفائی صاف صاف
چاہیئے تھی آپ کی تصویر سو
کھینچ لی تصویر میں نے چاند کی
روشنی بھی تیرگی بھی ساتھ ہے یا یوں کہیں
زندگی خوش ہے مگر خوش بھی طوائف کی طرح
دفعتاً میں ٹھیک ہو سکتا ہوں چارہ گر مرے
تو مجھے پہنا دے اس کے نام کا تعویذ گر
رکھ لیا تھا میں نے روزہ جاں تمہارے نام کا
تم کو دیکھا خواب میں اور میری سحری ہو گئی
تمہارے بن نہیں لیتے کبھی کروٹ اکیلے ہم
تمہاری یاد بھی کروٹ ہمارے ساتھ لیتی ہے
بنا ہوگا کسی بھی روز تو پتھر بنا ہوگا
کہیں پھر بعد میں وہ شخص چارہ گر بنا ہوگا
جب سے ٹانگی ہے تری تصویر دل کی الگنی پر
یاں تبھی سے دن میں تتلی بیٹھتی ہے شب میں جگنو
اداسی راستا بتلا رہی ہے ہاتھ پکڑے یوں
پتہ معلوم ہو جیسے ہماری موت کا اس کو
جب لگے خود کو کبھی بیمار سے ہم
لگ کے روئیں ہیں در و دیوار سے ہم
دل کا کمرہ روشنی سے بھر گیا
جب جلا دیپک تمہاری یاد کا
آج کی شب خواب میں باتیں ہوئی ہیں جن سے میری
یا خدا اک روز ہو جائے مجھے دیدار ان کا
تیرگیٔ زیست کر دی ختم اس نے
روشنی ہے پھول سی بچی ہماری