Yazdani Jalandhari's Photo'

یزدانی جالندھری

1915 - 1990 | لاہور, پاکستان

یزدانی جالندھری کا تعارف

تخلص : 'سید عبدالرشید یزدانی'

اصلی نام : سید عبدالرشید

پیدائش : 16 Jul 1915 | جالندھر, پنجاب

وفات : 23 Mar 1990 | لاہور, پنجاب

Relatives : تاجور نجیب آبادی (استاد)

بزم وفا سجی تو عجب سلسلے ہوئے

شکوے ہوئے نہ ان سے نہ ہم سے گلے ہوئے

یزدانی جالندھری اردو میں جدید کلاسیکی روایت کے ترجمان شاعر تھے۔ یزدانی جالندھری (1915ء-1990ء) کی ولادت پنجاب کے ادب خیز شہر جالندھر کے گیلانی سادات گھرانے میں ہوئی۔ ان کا خاندانی نام ابو بشیر سیّد عبدالرشید یزدانی اور والد کا نام سیّد بہاول شاہ گیلانی تھا جو محکمہ تعلیم میں صدر مدرس تھے. ابتدائی تعلیم جالندھر میں حاصل کی۔ تقسیمِ برِصغیر سے پہلے ہی ان کا خاندان منٹگمری (ساہیوال) منتقل ہو گیا اور یزدانی وہاں سےمزید تعلیم کے لیے اسلامیہ کالج لاہور آ گئے جہاں ان کے دوستوں میں حمید نظامی,نسیم حجازی اور مرزا ادیب جیسے صحافی اور ادیب شامل رہے۔ شاعری کا شوق بچپن سے تھا۔پہلا شعر پانچویں جماعت میں کہا۔ ابتدا میں استاد تاجور نجیب آبادی سے اور بعد ازاں سلسلۂ مصحفی کے استاد شاعر مولانا افسر صدیقی امروہوی سے مشورہ سخن رہا۔ برِصغیر پاک و ہند میں انہیں اپنے دور کا اُستاد شاعر کہا جاتا ہے۔
1933 میں ادبی جریدہ "غالب" کا اجرا کیا جس میں احسان دانش اور خاطر غزنوی اور عبدالحمید عدم ان کی معاونت کرتے تھے۔
کالج کی تعلیم کے بعد کچھ عرصہ بمبئی کی فلم انڈسٹری میں گزارا جہاں ان کی دوستی ساحر لدھیانوی سے رہی۔ اس دور کے ان کے ادبی دوستوں میں کیفی اعظمی اور جاں نثار اختر کے نام بھی شامل ہیں۔ اسی دوران انہیں خوشتر گرامی کے رسالہ"بیسویں صدی" کی ادارت کا موقع بھی ملا۔ قیام پاکستان کے بعد یزدانی جالندھری پہلے کراچی مقیم رہے جہاں صہبا لکھنوی کےادبی مجلہ "افکار" کی مجلسِ ادارت کے رکن رہے۔ اور چند فلموں کے لیے گیت اور مکالمے بھی لکھے۔ ساٹھ کے عشرے میں کراچی سے مستقل طور پر لاہور منتقل ہو گئے۔ یہاں وہ ماہنامہ "نیا راستہ"، "امدادِ باہمی"،" انقلابِ نو"،"محفل"، "اداکار" اور " اردو ڈائجسٹ" کے علاوہ روزنامہ سیاست کے ادارتی عملہ میں بھی شامل رہے۔ یزدانی جالندھری ادارۂ ادب کے سیکریٹری اور پاکستان رایٔٹرز گلڈ کے فعال رکن رہے۔ ان کی تخلیقات محفل ، فنون ، نقوش ، تخلیق ، شام وسحر ، افکار اور پنج دریا جیسے معیاری ادبی جرایٔد میں جگہ پاتی تھیں ۔ ادارۂ ادب ، مجلسِ شمعِ ادب ، مجلسِ سیرت اور ریڈیو پاکستان لاہور کے مشاعروں میں بھی شرکت کرتے تھے۔ یزدانی کے دوستوں میں طفیل ہوشیار پوری ، انجم رومانی ، شہرت بخاری ، عبدالحمید عدم ، ایف۔ڈی۔گوہر ، شرقی بن شایٔق ، عبدالرشید تبسم ، تبسم رضوانی اورساغر صدیقی کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
یزدانی جالندھری کا انتقال 23 مارچ 1990ء کو لاہورمیں ہوا۔ "روزنامہ جنگ" لاہور کے ادبی ایڈیشن نے احمد ندیم قاسمی، ڈاکٹر وحید قریشی، میرزاادیب، ڈاکٹر انور سدید ،طفیل ہوشیارپوری، حمید اختر اور دوسرے اہم شعراء اور ادباء کے تعزیعتی پیغامات شائع کیے۔

موضوعات