غزل

اپنے دل_مضطر کو بیتاب ہی رہنے دو

نعمان شوق

تو خود بھی نہیں اور ترا ثانی نہیں ملتا

نعمان شوق

جب بھی وہ مجھ سے ملا رونے لگا

نعمان شوق

جھیل میں اس کا پیکر دیکھا جیسے شعلہ پانی میں

نعمان شوق

میرے نازک سوال میں اترو

نعمان شوق

میں زندگی کا نقشہ ترتیب دے رہا ہوں

نعمان شوق

کیوں میں حائل ہو جاتا ہوں اپنی ہی تنہائی میں

نعمان شوق

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI