بادلوں نے آج برسایا لہو

امن کا ہر فاختہ رونے لگا

جانے کس کردار کی کائی میرے گھر میں آ پہنچی

اب تو ظفرؔ چلنا ہے مشکل آنگن کی چکنائی میں