ظہیر عباس کے افسانے
اجنبی شہر میں
طبیعت ذرا بوجھل تھی ‘انارکلی میں پھرتا پھراتا میں نیشل کالج آف آرٹس کے عین سامنے وولنر کے مجسمے کے ساتھ والی بنچ پر آ بیٹھا۔ اگست کی اس حبس زدہ شام نے میری سانسیں بےترتیب کر رکھی تھیں۔ میں نے خواہ مخواہ سامنے جھکی ہوئی توپ اور مجسمے پر غور کرنا شروع
اندھیر نگری
اس نے ایک دوکروٹیں لے کر باقی ماندہ نیند پوری کرنے کی ناکام کوشش کی لیکن ہر سو سرسراتے سناٹے سے ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ بازار وں میں دور تک کوئی نہیں تھا ۔گھروں کے دروازے کھلے ہوئے تھے۔سورج سوا نیزے پر ہی تھا اور یہ وہ وقت ہوتاتھا جب گلی میں مزدوراورآنے
ساجو کی ماں کی۔۔۔
میرا ننیہال اور سابقہ گاؤں بی آربی نہر کے کنارے واقع ہے۔ لاہور سے نارروال،شکرگڑھ کی طرف جائیں تو کالی صوبہ اور قلعہ کالر والا کے درمیان مانگا پل کا سٹاپ ہے جو نہر کے عین کنارے پر ہے۔پانی کا رخ مشرق کی طرف ہے اگرنہرکے دائیں کنارے کے ساتھ ایک میل تک
کردار کا ماتم
بیشتر لکھنے والے اس بات سے بے خبر کہ کبھی وہ بھی لکھنے والوں میں شامل ہو جائیں گے، پہلے پڑھنا شروع کرتے ہیں۔ وہ بھی اس وقت سے پڑھ رہا تھا جب سے اس نے ہوش سنبھالا تھا۔ اس کے خاندان کاعلم وادب کے میدان میں کئی نسلوں سے ڈنکا بجتا تھا۔ قرب و جوار میں کون