Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Zahidul Haque's Photo'

زاہد الحق

1977 | پٹنہ, انڈیا

محقق، نقاد، شاعر اور خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ کے ڈائریکٹر ہیں

محقق، نقاد، شاعر اور خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ کے ڈائریکٹر ہیں

زاہد الحق کا تعارف

اصلی نام : ڈاکٹر محمد زاہد الحق

پیدائش : 26 Jun 1977 | ارریا, بہار

ڈاکٹر محمد زاہد الحق (پیدائش: 26 جون 1977) کا تعلق ارریہ، بہار سے ہے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری امتیازی نمبروں اور نمایاں پوزیشن کے ساتھ حاصل کی۔ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں داخلہ لیا، جہاں سے ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ دورانِ تحقیق انہیں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) کی جونیئر اور سینئر ریسرچ فیلوشپ بھی حاصل رہی۔

ڈاکٹر زاہد الحق کی علمی و تحقیقی دلچسپی کلاسیکی اردو شاعری، بالخصوص غزل، سے وابستہ ہے۔ تقابلی ادب، تنقید، ادبیات کے سماجیاتی مطالعے اور اردو شعری روایت پر ان کی گہری نظر ہے۔ شعر و ادب سے ان کی وابستگی طالب علمی ہی کے زمانے میں قائم ہوئی اور انہوں نے شعری جمالیات اور فنِ شاعری کے مختلف پہلوؤں پر سنجیدہ مطالعہ کیا۔

اب تک ان کی چار کتابیں، پینتیس سے زائد تحقیقی و تنقیدی مضامین، متعدد تراجم، تبصرے اور مختلف علمی کتابوں میں ابواب شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی نمایاں تصانیف میں "انعام اللہ خاں یقین: عہد اور شاعری"، "بساطِ نقد"، "بیگ احساس: فکر، فن اور شخصیت" (مرتبہ) اور "پسِ عرضِ ہنر" شامل ہیں۔

ڈاکٹر زاہد الحق طویل عرصے تک جامعہ حیدرآباد کے شعبۂ اردو میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے تدریسی و تحقیقی خدمات انجام دیتے رہے۔ بعد ازاں انہیں خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا، جہاں وہ ملک کے اہم علمی و مخطوطاتی ذخیرے کی حفاظت، تحقیق اور فروغِ علم کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔

ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں انہیں بہار اردو اکادمی کی جانب سے امداد امام اثر ایوارڈ (تحقیق) برائے سال 2013 سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے