Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

بوم میرٹھی

1888 - 1954 | میرٹھ, انڈیا

طنز و مزاح کے نامور شاعر، بے انتہا مقبول، سادہ اور رواں زبان میں خوبصورت مزاحیہ غزلیں کہیں

طنز و مزاح کے نامور شاعر، بے انتہا مقبول، سادہ اور رواں زبان میں خوبصورت مزاحیہ غزلیں کہیں

بوم میرٹھی کے اشعار

22
Favorite

باعتبار

ان سے چھینکے سے کوئی چیز اتروائی ہے

کام کا کام ہے انگڑائی کی انگڑائی ہے

شمع کچھ پھوکنے کے واسطے گھر پر نہیں جاتی

فدا الو کا پٹھا آ کے خود پروانہ ہوتا ہے

گیا بچپن شباب آیا بڑھاپا آنے والا ہے

مگر میں تو ابھی تک آپ کو بچہ سمجھتا ہوں

بوم صاحب کا عجب رنگ نرالا دیکھا

یار یاروں میں ہے اغیار ہے اغیاروں میں

نہ پوچھو تم کو اور دشمن کو دل میں کیا سمجھتا ہوں

اسے الو تمہیں الو کا میں پٹھا سمجھتا ہوں

اگر دل کو بچاتا میں نہ زلفوں کے اڑنگے سے

تو دنیا بھر سے لمبی شام فرقت اور ہو جاتی

بس اب بارہ برس کے ہو گئے ختنہ کرا ڈالو

مسلمانی نہ ہو جس کی مسلماں ہو نہیں سکتا

مخالف پارٹی پچھلے مضامینوں کو روتی ہے

ہماری شاعری کی آج دنیا اور ہی کچھ ہے

پڑیں جوتے ہزاروں سر پہ لیکن میں نہ نکلوں گا

تیرے کوچہ کے ہمسر باغ رضواں ہو نہیں سکتا

لے کے اس شوخ کو آرام سے چھت پر سویا

غیر کو ڈال دیا باندھ کے شہتیر کے ساتھ

شراب ناب کی کرتا مذمت پھر نہ بھولے سے

جو مے خانہ میں واعظ کی مرمت اور ہو جاتی

Recitation

بولیے