Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Rajesh Reddy's Photo'

راجیش ریڈی

1952 | ممبئی, انڈیا

سماجی حقیقتوں کو بے نقاب کرنے والے مقبول عام شاعر

سماجی حقیقتوں کو بے نقاب کرنے والے مقبول عام شاعر

راجیش ریڈی

غزل 35

اشعار 40

دل بھی اک ضد پہ اڑا ہے کسی بچے کی طرح

یا تو سب کچھ ہی اسے چاہئے یا کچھ بھی نہیں

شام کو جس وقت خالی ہاتھ گھر جاتا ہوں میں

مسکرا دیتے ہیں بچے اور مر جاتا ہوں میں

  • شیئر کیجیے

مرے دل کے کسی کونے میں اک معصوم سا بچہ

بڑوں کی دیکھ کر دنیا بڑا ہونے سے ڈرتا ہے

کسی دن زندگانی میں کرشمہ کیوں نہیں ہوتا

میں ہر دن جاگ تو جاتا ہوں زندہ کیوں نہیں ہوتا

یہاں ہر شخص ہر پل حادثہ ہونے سے ڈرتا ہے

کھلونا ہے جو مٹی کا فنا ہونے سے ڈرتا ہے

کتاب 2

 

ویڈیو 18

This video is playing from YouTube

آڈیو 10

اب کیا بتائیں ٹوٹے ہیں کتنے کہاں سے ہم

جانے کتنی اڑان باقی ہے

جو کہیں تھا ہی نہیں اس کو کہیں ڈھونڈھنا تھا

Recitation

متعلقہ ناشرین

دیگر شعرا کو پڑھیے

 

Recitation

بولیے