ابھی تو دل میں ہے جو کچھ بیان کرنا ہے

افتخار نسیم

ابھی تو دل میں ہے جو کچھ بیان کرنا ہے

افتخار نسیم

MORE BY افتخار نسیم

    ابھی تو دل میں ہے جو کچھ بیان کرنا ہے

    یہ بعد میں سہی کس بات سے مکرنا ہے

    تو میرے ساتھ کہاں تک چلے گا میرے غزال

    میں راستہ ہوں مجھے شہر سے گزرنا ہے

    کنار آب میں کب تک گنوں گا لہروں کو

    ہے شام سر پہ مجھے پار بھی اترنا ہے

    ابھی تو میں نے ہواؤں میں رنگ بھرنے ہیں

    ابھی تو میں نے افق در افق بکھرنا ہے

    دلیر ہیں کہ ابھی دوستوں میں بیٹھے ہیں

    گھروں کو جاتے ہوئے سائے سے بھی ڈرنا ہے

    میں منتظر ہوں کسی ہاتھ کا بنایا ہوا

    کہ اس نے مجھ میں ابھی اور رنگ بھرنا ہے

    ہزار صدیوں کی روندی ہوئی زمیں ہے نسیمؔ

    نہیں ہوں میں کہ جسے پہلا پاؤں دھرنا ہے

    مآخذ:

    • Book: اردو غزل کا مغربی دریچہ(یورپ اور امریکہ کی اردو غزل کا پہلا معتبر ترین انتخاب) (Pg. 45)
    • مطبع: کتاب سرائے بیت الحکمت لاہور کا اشاعتی ادارہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites