اپنے ماضی کو چراغوں میں بسر ہم نے کیا

معید رہبر

اپنے ماضی کو چراغوں میں بسر ہم نے کیا

معید رہبر

MORE BY معید رہبر

    اپنے ماضی کو چراغوں میں بسر ہم نے کیا

    کٹ گئی رات تو دیدار سحر ہم نے کیا

    صرف جنگیں ہی نہیں جیتی ہیں ہیں اس دنیا میں

    معرکہ عشق کے میداں کا بھی سر ہم نے کیا

    دیکھنے والوں کی حیرت کا ٹھکانہ نہ رہا

    ایک پتھر کو جو چمکا کے گہر ہم نے کیا

    چاند میں عکس نظر آیا ہے تیرا جب سے

    حسن والے تجھے منظور نظر ہم نے کیا

    کون سچ بولتا ہے ظالم و جابر کے خلاف

    کام دنیا میں یہ بے خوف و خطر ہم نے کیا

    بھول پانا اسے آساں تو نہیں تھا یارو

    کام یہ تھوڑا سا مشکل تھا مگر ہم نے کیا

    تب کہیں جا کے غزل رنگ ہے لائی رہبرؔ

    صرف اشعار میں جب خون جگر ہم نے کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites