اسے تب دیکھتے شاداب تھا جب

پرویز رحمانی

اسے تب دیکھتے شاداب تھا جب

پرویز رحمانی

MORE BY پرویز رحمانی

    اسے تب دیکھتے شاداب تھا جب

    وہ صحرا ہر طرف خوش خواب تھا جب

    کھڑے خوش فعلیاں کرتے تھے بگلے

    ندی میں گھٹنے گھٹنے آب تھا جب

    امیدی سیپیاں عرفان سی تھیں

    سمندر فکر کا پایاب تھا جب

    چمکتی خوشبوئیں تھیں مچھلیوں کی

    جزیرہ خواب کا دشتاب تھا جب

    قدم خود سے بڑھاتے تھے نہ رستے

    برستا چار سو کہراب تھا جب

    سبھی چہرے اجالا سوچتے تھے

    ہماری آنکھوں پہ نقشاب تھا جب

    تھیں ہم تعبیر رحمانیؔ کی باہیں

    بدن ہم خواب کا کمخواب تھا جب

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites