رموز جوانی
جوانی ناشکیبا نرد بان عرش اعظم ہے
جوانی راحت افزا باعث حسن دو عالم ہے
جوانی امتحاں ہے زندگی کے درس عبرت کا
جوانی ایک تحفہ ہے رضائے رب العزت کا
جوانی زندگی کے ساز کا دلکش ترانہ ہے
جوانی ایک مہمل ایک با معنی فسانہ ہے
جوانی راز دار کن فکاں ہے سر آدم ہے
جوانی انقلاب انگیز ہے پہنائے عالم ہے
جوانی دشمن انساں ہے غماز حقیقت ہے
جوانی مسلک دشوار سر تا پا مصیبت ہے
جوانی اشک کی صورت برس جاتی ہے آنکھوں سے
جوانی لاکھ لاتی ہے بلائیں سر پہ انساں کے
جوانی اک گل مخصوص ہے بستان عالم کا
اسی گلشن میں آ کر امتحاں ہوتا ہے آدم کا
جوانی چپکے چپکے روح پر قبضہ جماتی ہے
سہانے گیت گاتی ہے رگ و پے میں سماتی ہے
جوانی ایک آئینہ ہے عکس زندگانی کا
یہ پہلو دوسرا پہلو ہے بزم آسمانی کا
جوانی کی کرن ہر آنکھ کو خیرہ بناتی ہے
یہ تازہ گل کھلاتی ہے غلط راہیں دکھاتی ہے
جوانی ایک ٹیڑھا راستہ ہے راہ ہستی کا
جہاں احساس ہوتا ہی نہیں کچھ اوج و پستی کا
جوانی ایک پردہ ہے جو مستقبل چھپاتا ہے
بہت سے بے خبر لوگوں کو دیوانہ بناتا ہے
جوانی ایک دریا ہے جو چڑھتے ہی اترتا ہے
جو اس میں ڈوبتا ہے جا کے پستی میں ابھرتا ہے
جوانی ایک ٹیڑھا راستہ ہے بزم فانی کا
جہاں ملتا ہے پروانہ حیات جاودانی کا
جوانی مژدۂ پیری مرقع ہے عبادت کا
اسی کے بعد کچھ احساس ہوتا ہے ریاضت کا
جوانی خون اپنے دور میں اکثر رلاتی ہے
بہ آسانی یہ فرزانوں کو دیوانہ بناتی ہے
جوانی ایسی منزل ہے جہاں اندیشۂ غم ہے
کرے انسان جتنا غور اس پر وہ رضیؔ کم ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.