aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",KXU"
شیخ زادہ کو
مصنف
میسرز لاکشو اینڈ کو، لاہور
ناشر
سی ایس کنی
امام کاؤ۔ ہاؤ۔ جان
لہسو
مکتبہ نذیریہ قصور، لاہور
کنفیوشیس
born.551
شام کی نا سمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اک پتاموج ہوائے کوئے یار کچھ تو مرا خیال بھی
مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیںجو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
نہ شعلہ میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ اداکوئی بتاؤ کہ وہ شوخ تند خو کیا ہے
قہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حور
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کیاس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
कौ کَو
کب
سنسکرت
कू کُو
گلی، کوچہ، محلہ، راستہ، سڑک
فارسی
सु سُ
خود کی جگہ اور اس کے ممنوں میں ، اپنا ، اپنی ِ جیسے ، سدیشی (س + یشی) سوراج (س + راج).
सू سُوء
بدی، خرابی، برائی، فساد، (اکثر تراکیب میں بطور سابقہ مستعمل) مزاج کی تبدیلی یا خرابی
عربی
آئی۔سی۔ایس
علی عباس حسینی
افسانہ
ایہہ کیو کی سچی کہانی
ناول
کو بہ کو
سلمان اختر
مجموعہ
داستان چل وزیر
ترجمہ
روزہ کیوں؟
محمد حمید اللہ
اسلامیات
کوئے بتاں
کیف بھوپالی
کوئے ملامت
انجم رومانی
.سید احمد بہادر،سی.ایس.آئی
تحقیق
دی میگنیفیکیسنس آف پیر مجیب
ڈاکٹر سید شمیم احمد قادری امانی
تصوف
ایکس تھری
ہمایوں اقبال
قصور معاف
انیس سلطانہ
نثر
مبادی قانون فوجداری
قانون
تیوپا چڑیوں کو کیوں نہیں پکڑتا
ادب اطفال
بہ کوئے یار
سرور تونسوی
خاکے/ قلمی چہرے
ایکس رے رپورٹ
عبدالقدوس رومی
عدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصور
کوئے جاناں میں سوگ برپا ہےکہ اچانک سدھر گیا ہوں میں
نہ اٹھے آہ کا دھواں بھی کہ وہکوئے دل میں خرام کر رہے ہیں
کیا سبب تو جو بگڑتا ہے ظفرؔ سے ہر بارخو تری حور شمائل کبھی ایسی تو نہ تھی
دل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہےپندار کا صنم کدہ ویراں کیے ہوئے
کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیےدو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
ہوئی ہے حضرت ناصح سے گفتگو جس شبوہ شب ضرور سر کوئے یار گزری ہے
اسی کا شہر وہی مدعی وہی منصفہمیں یقیں تھا ہمارا قصور نکلے گا
گر پرستش خدا کی ثابت کیکسو صورت میں ہو بھلا ہے عشق
آمد دوست کی نوید کوئے وفا میں عام تھیمیں نے بھی اک چراغ سا دل سر شام رکھ دیا
ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گےبے نیازی تری عادت ہی سہی
بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہےوہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے
تیری آنکھوں کا کچھ قصور نہیںہاں مجھی کو خراب ہونا تھا
نہیں اب تو اہل جنوں میں بھی وہ جو شوق شہر میں عام تھاوہ جو رنگ تھا کبھی کو بہ کو سر کوئے یار بھی اب نہیں
یہ اداس اداس سے بام و در یہ اجاڑ اجاڑ سی رہگزرچلو ہم نہیں نہ سہی مگر سر کوئے یار کوئی تو ہو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books